چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے کہ ٹیکس تنازعات کا بروقت اور منصفانہ حل ریاستی نظام پر اعتماد کے لیے ناگزیر ہے۔
چیف جسٹس کی زیر صدارت ٹیکس لٹیگیشن ریفارمز کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں ٹیکس مقدمات کے جلد فیصلے، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عدالتی کارکردگی میں بہتری پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے اجلاس کی صدارت کی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، ٹیکس چھاپوں پر حکام کو وسیع اختیارات حاصل
اجلاس کا بنیادی مقصد ٹیکس تنازعات کے موثر اور بروقت حل کو یقینی بنانا تھا، تاکہ عوامی اعتماد میں اضافہ اور بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ دیا جا سکے۔
اجلاس کے دوران جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ٹیکس لٹیگیشن میں درپیش طریقہ کار کی رکاوٹوں پر مبنی اپنے حالیہ فیصلے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ جو معاملات طے ہو چکے ہوں، ان پر سرکاری ادارے غیر ضروری اپیلیں دائر کرنے سے گریز کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو ایک منصفانہ اور ذمہ دار مدعی کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ غیر ضروری قانونی چارہ جوئی نہ صرف عدلیہ پر اضافی بوجھ ڈالتی ہے بلکہ قانونی یقینی صورتحال میں رکاوٹ بنتی اور عوامی وسائل کے ضیاع کا سبب بھی بنتی ہے۔
مزید پڑھیں:انصاف پر ٹیکس؟ بائیو میٹرک فیس کے خلاف آئینی عدالت میں درخواست دائر
اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے ججز کی جانب سے دی گئی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر متعدد اہم فیصلے بھی کیے گئے، جن کے تحت ایف بی آر کے ڈائریکٹر سطح کے افسران کو ہر ہائیکورٹ میں ٹیکس معاملات کی نمائندگی کے لیے نامزد کیا جائے گا۔
اسی طرح ہر صوبے میں ریفرنسز فائل کرنے کی جانچ کے لیے اسکروٹنی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔
مزید برآں، سندھ ہائیکورٹ کے تیار کردہ فیصلوں کے ڈیٹا بیس کو سپریم کورٹ، تمام ہائیکورٹس اور ایف بی آر کے ساتھ شیئر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کو درست قرار دے دیا
اس کے علاوہ متعلقہ اداروں کے آئی ٹی ونگز کو ڈیٹا کی ہم آہنگی کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
دور دراز علاقوں میں تعینات افسران کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی میں شرکت کی سہولت فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، تاکہ مقدمات کی سماعت میں تاخیر کو کم کیا جا سکے۔
اجلاس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سمیت تمام ہائی کورٹس کے نامزد ججز، چیئرمین وزیر اعظم ٹاسک فورس برائے ٹیکس لٹیگیشن اور چیئرمین ایف بی آر نے شرکت کی۔










