پروفیشنل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم لنکڈ ان ایک مبہم طریقے سے صارفین کے براؤزر ایکسٹینشنز کو اسکین کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لنکڈ اِن اے آئی چیٹ بوٹس کے لیے معلومات کا بڑا ذریعہ بن گیا
اس عمل کو ’ریسورس پروبنگ‘ کہا جاتا ہے جس میں جب صارف کرومیم بیسڈ براؤزر میں لنکڈ ان کھولتا ہے تو اس کا جاوا اسکرپٹ مخصوص براؤزر ایکسٹینشنز کی موجودگی چیک کرتا ہے۔
اس وقت یہ فہرست 6,000 سے زائد ایکسٹینشنز پر مشتمل ہے جس کے بعد وہ ڈیٹا جمع کرتا ہے اور لنکڈ ان کے سرورز کو بھیج دیتا ہے۔
فورٹرا کے سیکیورٹی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ٹائلر ریگولی نے اس عمل کی تحقیقات کی اور اس کی تشخیص میں کہا کہ ’ہاں، لنکڈ ان بہت ساری ایکسٹینشنز کی پروبنگ کر رہا تھا مگر اس میں آپ کے کمپیوٹر کی اسکیننگ یا کوئی بدنیتی کوڈ نہیں تھا بس ایک سادہ جاوا اسکرپٹ تکنیک ہے جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ ایکسٹینشن موجود ہے یا نہیں‘۔
ریگولی نے ایکسٹینشنز کی جانچ کرتے وقت کیا پایا؟
ریگولی نے تقریباً 10 فیصد فلیگڈ ایکسٹینشنز کی جانچ کی اور اس کے نتائج سے کچھ دلچسپ معلومات حاصل کی اگرچہ وہ اس انداز میں نہیں جیسا کہ ’براؤزر گیٹ‘ کی توقع تھی۔
جن میں سے کچھ ایکسٹینشنز کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ایک ایکسٹینشن اس کے ٹیب کو بند کرنے کی کوشش کرنے پر بند نہیں ہوئی اور دوسری ایکسٹینشنز نے ان کی ہوم پیج کو تبدیل کر دیا اور غیر مطلوبہ بک مارکس شامل کر دیے۔ ایک ایکسٹینشن ہر بار براؤزر کھولنے پر رک ایسٹلے کا مشہور گانا ’نیور گونا گِو یو اپ‘ چلا دیتی تھی۔
مزید پڑھیے: گوگل کا پاکستان میں اے آئی پروفیشنل سرٹیفکیٹ پروگرام متعارف
ریگولی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ لنکڈ ان کی حقیقی تشخیص کی صلاحیت محدود ہے۔ ان کی جانچ کے مطابق، 6,000 میں سے صرف تقریباً 2,000 ایکسٹینشنز کو حقیقت میں دریافت کیا جا سکتا ہے۔
ان کا یہ کہنا کہ ان میں سے بہت سی ایکسٹینشنز سب سے بدترین ہیں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ لنکڈ ان یہ پروبنگ ڈیٹا اسکریپرز کے خلاف دفاع کے طور پر کر رہا ہے نہ کہ صارف کی پروفائل بنانے کے لیے۔
قانونی حیثیت
سیکیورٹی کے لحاظ سے یہ عمل نسبتاً بے ضرر لگتا ہے مگر قانونی حیثیت قدرے پیچیدہ ہے۔ سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پروٹیکشن کے ماہر وکیل ایلیا کولوشنیکو نے سیکیورٹی ویک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ براؤزر فنگر پرنٹنگ کی قانونی حیثیت مختلف ممالک میں مختلف ہو سکتی ہے۔
جی ڈی پی آر اور دیگر اسی طرح کی پرائیویسی پالیسیوں کے مطابق اگر ایسی معلومات صارف کی اجازت کے بغیر جمع کی جائیں تو یہ ایک جرم سمجھا جائے گا۔ اس کے علاوہ کچھ حالات میں یہ عمل تجارتی مقاصد کے لیے کیا جا رہا ہو تو اسے جرم سمجھا جا سکتا ہے خصوصاً جب صارف کو اس بارے میں آگاہ نہ کیا جائے۔
لنکڈ ان کا کہنا ہے کہ یہ معلومات صرف اس بات کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے کہ کوئی ایکسٹینشن ان کی شرائط کی خلاف ورزی نہ کر رہی ہو نیز کسی بھی غیر معمولی سرگرمی سے دفاع کرنے کے لیے۔
کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا فرد کی ذاتی خصوصیات کا پتا لگانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ تاہم وہ صارف کو اس ڈیٹا جمع کرنے کے عمل کے بارے میں آگاہ نہیں کرتے۔
’اسکینڈل نہ بنایا جائے‘
ریگولی کا کہنا ہے کہ اس سارے معاملے کو ایک سنسیشنل اسکینڈل کے طور پر دیکھنے کے بجائے یہ ٹیکنالوجی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق یہ معلومات آئی ٹی منیجرز اور سیکیورٹی اسپیشلسٹس کے لیے کارآمد ہو سکتی ہیں جو کچھ سافٹ ویئر ایپلیکیشنز کو بلاک کرنا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’میں بک گیا، سامنے والی کمپنی 4 پیسے زیادہ دے رہی ہے‘، ملازم کا انوکھا استعفیٰ وائرل
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ آیا لنکڈ ان کوئی نگرانی کر رہا تھا بلکہ پوائنٹ یہ ہے کہ آیا کسی کو یہ معلومات خاموشی سے جمع کرنے کا حق ہونا چاہیے۔












