شمالی کوریا نے ایک بار پھر خطے میں تشویش بڑھاتے ہوئے اپنے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی سمت متعدد بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ جنوبی کوریا اور جاپان کے مطابق یہ میزائل تجربات اس سال شمالی کوریا کا ساتواں اور اپریل میں چوتھا ایسا اقدام ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شمالی کوریا کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ، اقوام متحدہ پریشان
جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق میزائلوں کو اتوار کی صبح تقریباً 6 بج کر 10 منٹ پر مشرقی ساحلی شہر سینپو کے قریب سے فائر کیا گیا، جو بعد ازاں کوریا کے مشرقی سمندر کی جانب گرے۔ جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ اس نے صورتحال کے پیش نظر اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے اور امریکا اور جاپان کے ساتھ مسلسل معلومات کا تبادلہ جاری ہے۔
جاپانی حکومت نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق میزائل جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر میں گرے، تاہم جاپان کے خصوصی اقتصادی زون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربات پر پابندی عائد ہے، تاہم پیانگ یانگ ان پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے دفاع کا حق قرار دیتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی جوہری ریاست کی حیثیت ناقابلِ واپسی ہے اور قومی سلامتی کے لیے جوہری ڈیٹرنس کو مزید مضبوط کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شمالی کوریا کا بحری جنگی جہاز سے کروز اور اینٹی شپ میزائلوں کا تجربہ
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ کے مطابق شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، اور ممکنہ طور پر ایک نیا یورینیم افزودگی پلانٹ بھی فعال ہو چکا ہے۔ یہ میزائل تجربات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور چین کے درمیان آئندہ ماہ ایک اہم سربراہی اجلاس کی تیاری جاری ہے، جس میں شمالی کوریا کی صورتحال بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔











