متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا کی جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو عالمی سلامتی کے لیے باعث تشویش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کا بحری جنگی جہاز سے کروز اور اینٹی شپ میزائلوں کا تجربہ
اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے سیول کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کے یونگ بیون نیوکلیئر ری ایکٹر کی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے جو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی صلاحیت میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔
جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا یورینیم افزودگی کی متعدد تنصیبات چلا رہا ہے جو ایٹمی وارہیڈز بنانے کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ ان میں یونگ بیون کا مرکز بھی شامل ہے جسے ماضی میں مذاکرات کے بعد بند کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم سنہ 2021 میں اسے دوبارہ فعال کر دیا گیا۔
رافیل گروسی کے مطابق آئی اے ای اے نے یونگ بیون میں ری پروسیسنگ یونٹ اور لائٹ واٹر ری ایکٹر کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا ہے جبکہ دیگر تنصیبات کی فعالیت بھی سامنے آئی ہے۔
مزید پڑھیے: عالمی حالات سے سبق: شمالی کوریا کا ایٹمی قوت مزید بڑھانے کا عزم
ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شمالی کوریا کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت میں سنجیدہ حد تک اضافہ ہو رہا ہے جس کا تخمینہ درجنوں وارہیڈز تک لگایا جا رہا ہے۔
شمالی کوریا نے سنہ 2006 میں اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ اقوام متحدہ کی سخت پابندیوں کی زد میں ہے۔ حکومت واضح کر چکی ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیار ترک نہیں کرے گی جبکہ سنہ 2009 سے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو بھی ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
گروسی نے مزید بتایا کہ ایک نئی تنصیب کی تعمیر بھی نوٹ کی گئی ہے جو یونگ بیون کی افزودگی سہولت سے مشابہت رکھتی ہے تاہم زمینی رسائی نہ ہونے کے باعث پیداوار میں اضافے کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس کے باوجود بیرونی شواہد کی بنیاد پر افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: شمالی کوریا انتخابات: کم جونگ اُن 99.93 فیصد ووٹ لے کر کامیاب
روس کی جانب سے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام میں ممکنہ تعاون کے سوال پر گروسی نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا۔ تاہم مبصرین کے مطابق شمالی کوریا یوکرین جنگ میں روس کی مدد کے لیے فوجی دستے اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے اور اس کے بدلے اسے فوجی ٹیکنالوجی حاصل ہونے کا امکان ہے۔














