امریکا میں 2018 میں رچرڈ رسل نامی شخص کی جانب سے مسافر طیارہ چرا کر پرواز کرنے اور بعد ازاں حادثے میں ہلاک ہونے کے واقعے پر نئی دستاویزی فلم جاری کر دی گئی ہے، جس میں اس کے آخری لمحات اور اہل خانہ کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اگست 2018 میں رچرڈ رسل نے سیئٹل ٹاکوما انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ایک بومبارڈیئر کیو 400 بغیر اجازت اڑا لیا تھا۔ وہ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک فضا میں رہا اور دورانِ پرواز ائیر ٹریفک کنٹرول سے مسلسل رابطے میں رہا۔
یہ بھی پڑھیے: علی صدپارہ اور جان سنوری پر بنائی گئی ڈاکومنٹری کی بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں بھرپور پذیرائی
رپورٹ کے مطابق اس دوران اس نے مذاق بھی کیا، معذرت بھی کی اور کہا کہ بہت سے لوگ اس سے محبت کرتے ہیں اور اس کے اقدام سے مایوس ہوں گے۔ بعد ازاں اس نے طیارہ جان بوجھ کر کیٹرون آئی لینڈ کے قریب گرا دیا، جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔
نئی ڈاکیومنٹری #SKYKING میں پہلی بار اس کے خاندان اور دوستوں نے کھل کر گفتگو کی ہے۔ ہدایتکار پیٹریشیا گلیسپی کا کہنا ہے کہ رچرڈ رسل کے ریکارڈ شدہ جملوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ذہنی دباؤ، ملازمت سے عدم اطمینان اور ذاتی مسائل کا شکار تھا۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کے بارے میں ڈاکومنٹری کی متنازع ایڈیٹنگ، بی بی سی کا ایک اور عہدیدار مستعفی
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رسل نے دورانِ پرواز ایک خطرناک فضائی کرتب بیرل رول بھی کیا تھا۔ حکام کے مطابق اگر وہ چاہتا تو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتا تھا، تاہم اس نے آبادی والے علاقوں سے جہاز دور رکھا۔
میڈیکل حکام نے اس کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا، جبکہ واقعے کے بعد امریکا میں ہوائی اڈوں کی سیکیورٹی پر بھی سنگین سوالات اٹھے تھے۔












