طبی ماہرین کی جانب سے زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے کے نقصانات پر مسلسل خبردار کیا جاتا رہا ہے، تاہم ایک حالیہ تحقیق سے یہ خوش آئند بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ چہل قدمی ان صحت کے خطرات کو کافی حد تک کم کرسکتا ہے۔
طبی جریدے سائنس ڈیلی میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق باقاعدگی سے پیدل چلنا موت اور دل کی بیماریوں کے خطرے میں واضح کمی لاتا ہے، حتیٰ کہ ان لوگوں میں بھی جو دن کا زیادہ تر وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مختصر یا طویل چہل قدمی میں سے زیادہ مفید کیا؟
72 ہزار سے زائد افراد پر کی گئی اس تحقیق میں ایکٹیویٹی ٹریکرز کے ڈیٹا کی مدد سے یہ پایا گیا کہ روزانہ 9 ہزار سے 10 ہزار قدم چلنے سے موت کے خطرے میں 39 فیصد اور امراضِ قلب کے خطرے میں 21 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے۔
تحقیق کے نتائج سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان فوائد کو حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ مشقت ضروری نہیں ہے، بلکہ روزانہ تقریباً 4 ہزار سے ساڑھے 4 ہزار قدم چلنے سے بھی ان مجموعی طبی فوائد کا آدھا حصہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی سرگرمی میں اضافہ سست طرزِ زندگی کے منفی اثرات کو کسی حد تک زائل کر سکتا ہے، اگرچہ یہ انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: مختصر یا طویل چہل قدمی میں سے زیادہ مفید کیا؟
اعداد و شمار کے مطابق تحقیق میں شامل افراد اوسطاً روزانہ 10 گھنٹے سے زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے تھے، لیکن اس کے باوجود زیادہ قدم چلنے والوں میں صحت کے حوالے سے واضح بہتری دیکھی گئی۔
محققین کے مطابق روزانہ قدموں کی گنتی ایک آسان اور عملی طریقہ ہے جسے موبائل فون یا ہاتھ پر باندھنے والی ڈیوائسز کے ذریعے با آسانی ٹریک کیا جا سکتا ہے، جس سے روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے۔
اگرچہ یہ ایک مشاہداتی مطالعہ ہے جو براہِ راست وجہ بیان کرنے کے بجائے ایک تعلق کو ظاہر کرتا ہے، لیکن یہ نتائج اس نظریے کو تقویت دیتے ہیں کہ روزمرہ کی حرکت میں تھوڑا سا اضافہ بھی طویل مدتی صحت کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے اور پیدل چلنا صحت مند رہنے کا سادہ ترین نسخہ ہے۔













