ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ اختلافات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتکاری ناگزیر، ترجمان دفتر خارجہ کی بریفنگ
ترجمان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے چین، برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ بھرپور سفارتی رابطے کیے ہیں، جن کا مقصد علاقائی امن، عالمی تعاون اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے 23 سے 26 مئی کے دوران چین کا اہم دورہ کیا جس میں چینی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے چین سے واپسی پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی فورم میں شرکت کی اور عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور مشترکہ عالمی مسائل کے حل پر مختلف ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں پرتگال، کولمبیا، کوسٹا ریکا، کیوبا اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک شامل تھے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ امریکی حکام کے ساتھ بھی اہم رابطے ہوئے جن میں امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی مشیر سے ملاقات شامل ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات، انسداد دہشت گردی اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق امریکی قیادت نے خطے میں امن کی کوششوں خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے اقدامات پر بات چیت کی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں اور مختلف دوست ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ خطے کا استحکام مشترکہ ذمہ داری ہے اور تمام فریقین کو تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:ترجمان دفتر خارجہ کا اسرائیلی سفیر کے بیان پر سخت ردعمل، الزامات مسترد
دفتر خارجہ کے مطابق حالیہ دنوں میں مصر، ویتنام، ایران اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی ٹیلیفونک رابطے ہوئے جن میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آٹھواں دور بھی منعقد ہوا جس میں تعاون کے مختلف شعبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور نے کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈائیلاگ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان منظم اور اعلیٰ سطحی سیاسی رابطوں کا اہم پلیٹ فارم ہے۔
ترجمان کے مطابق اس اجلاس میں دونوں فریقین نے باہمی تعلقات میں پیش رفت، تعاون کے فروغ اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈائیلاگ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اعلیٰ سطحی سیاسی روابط کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس کے دوران خطے کی صورتحال، بالخصوص مشرق وسطیٰ کے معاملات پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر متعدد علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی، جبکہ مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا گیا۔ بیان میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے اشتعال انگیزی اور مقدس مقامات کی حیثیت متاثر کرنے کی کوششوں کی بھی مذمت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:صدر زرداری کے دورہ یو اے ای کے دوران سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات بڑھانے پر زور دیا گیا، ترجمان دفتر خارجہ
بیان میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا جس کا دارالحکومت القدس ہو، اور اس مؤقف کو بین الاقوامی قانون اور دو ریاستی حل کے مطابق قرار دیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے مؤقف پر بدستور قائم ہے۔













