جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سیاست میں فیصلے جذبات کی بنیاد پر نہیں کیے جاتے، سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ ملک ہم سب کا ہے، اور ہم اس کی خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ کسی بھی جارحیت کی صورت میں ہم سب سے پہلے میدان میں ہوں گے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ حکومت نے موجودہ حالات میں مظاہروں سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ احتجاج کی کال دینا مشکل نہیں، تاہم حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچ سمجھ کر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتکاری کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ ان کا انداز کسی سنجیدہ سفارتکار کے بجائے سخت لہجے پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے مہذب اور محتاط گفتگو ضروری ہوتی ہے، ٹرمپ کی جانب سے ایران کو تباہ کرنے جیسے بیانات مناسب نہیں، انہیں پہلے سفارتی آداب سیکھنے چاہییں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے اور اس کا مقصد دنیا کو ممکنہ عالمی جنگ سے بچانا ہے۔ پاکستان کی اس کوشش کا احترام کیا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہاکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
انہوں نے عالمی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے کہاکہ دنیا میں جمہوریت کمزور ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں ایک متبادل نظام کی ضرورت پر غور کرنا ہوگا، جو کسی ایک جماعت نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ مسئلہ ہے۔













