امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ اتوار کو طے پا سکتا ہے، تاہم تہران نے فوری دستخط کے وقت سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیش رفت جاری ہے اور معاہدہ آنے والے دنوں میں سامنے آ سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرنے والا معاہدہ جلد دستخط کے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی۔
🚨 BREAKING: President Trump confirms the deal with Iran is scheduled to be signed TOMORROW
– NO cash will change hands (unlike Obama’s “deal”)
– The Strait will reopen IMMEDIATELY
– The US will soon recover the “nuclear dust”
TRUMP: “Hopefully, this process will all work… pic.twitter.com/FLGB1Mnu8l
— Nick Sortor (@nicksortor) June 13, 2026
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا بالآخر ایران کے جوہری مواد کے معاملے پر بھی پیشرفت حاصل کرے گا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکی صدر کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فوری طور پر اتوار کو معاہدے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت ضرور ہوئی ہے، لیکن حتمی دستخط کے لیے مزید امور طے کرنا باقی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے دنیا کو بڑی مشکل سے بچا لیا
ایرانی حکام کے مطابق اگر معاملات اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو معاہدہ آنے والے دنوں میں ممکن ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی جنگ بندی معاہدے میں لبنان کی صورتحال کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق تقریبات 4 جولائی کو تہران میں شروع ہوں گی، جبکہ تدفین 9 جولائی کو مشہد میں کی جائے گی۔














