بلوچستان کے ضلع خضدار میں دہشتگردی کے خلاف ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے لیڈی کانسٹیبل ملک ناز نے جام شہادت نوش کرلیا۔
ملک ناز اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہوئیں، یوں انہوں نے وطنِ عزیز کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے بہادری کی ایک نئی مثال قائم کی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں خواتین کا استعمال، سیکیورٹی اداروں کا نیٹ ورک پر کاری وار
ملک ناز کی زندگی خود قربانی اور استقامت کی ایک جیتی جاگتی مثال تھی۔ ان کے شوہر عبدالغنی جو لیویز فورس میں سپاہی تھے، 2005 میں فورس کا حصہ بنے اور اپریل 2011 میں خضدار کے علاقے چمروک میں دورانِ ڈیوٹی ٹارگٹ کلنگ کے ایک واقعے میں شہید ہو گئے تھے۔
شوہر کی شہادت کے بعد ملک ناز نے ہمت نہیں ہاری بلکہ 17 اپریل 2013 کو شہید کوٹہ کے تحت لیویز فورس میں شمولیت اختیار کی، اور اپنے شوہر کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم کیا۔
انہوں نے نہ صرف ایک ماں کے طور پر اپنے بچوں کی پرورش کی بلکہ ایک فرض شناس اہلکار کے طور پر ملک و قوم کی خدمت بھی جاری رکھی۔
شہیدہ اپنے پیچھے ایک بیٹا سمیر احمد (18 سال) اور 2 بیٹیاں شمائلہ بی بی (16 سال) اور سمایا بی بی (14 سال) چھوڑ گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے لیڈی کانسٹیبل ملک ناز کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہاکہ ملک ناز نے دہشتگردی کے خلاف جاری جدوجہد میں بہادری اور قربانی کی نئی مثال قائم کی ہے، اور وہ صوبے کی تاریخ میں سنہری حروف سے یاد رکھی جائیں گی۔
انہوں نے اس امر کو مزید قابلِ فخر قرار دیا کہ ایک ہی خاندان سے میاں بیوی دونوں نے وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ حکومت بلوچستان اس مشکل وقت میں شہیدہ کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی مکمل کفالت کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی اور شہدا کا مشن ہر صورت پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔














