شارک ٹینک انڈیا کی جج اور ایمکیور فارماسیوٹیکلز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نمیتا تھاپر نے نماز کے صحت سے متعلق فوائد پر مبنی اپنی ایک ویڈیو کے بعد ہونے والی آن لائن تنقید اور ٹرولنگ پر سخت ردعمل دیا ہے۔
نمیتا تھاپر کا کہنا تھا کہ پچھلے تین ہفتوں سے انہیں نامناسب اور توہین آمیز گالیاں دی جا رہی ہیں اور ٹرولز نے ان کی والدہ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
I left for bombay at 6.30 am like the hard working professional that I am & stopped the car at 7 am to make this reel as I’ve long realised that silence is not a virtue & one must speak up when they are disrespected. Yes if wrong things happen at any workplace that are against… pic.twitter.com/rvMSu0wXz0
— Namita (@namitathapar) April 20, 2026
تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک صحت کے ماہر کے طور پر وہ پہلے بھی ہندو روایات جیسے یوگا کے بارے میں بات کر چکی ہیں مگر اس پر اس طرح کا ردعمل نہیں آیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب دوسرے مذاہب کے طریقوں پر بات کی جاتی ہے تو غصہ کیوں ظاہر ہوتا ہے؟
ساتھ ہی انہوں نے ٹرولرز کو کارما کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خدا دیکھ رہا ہے آپ اپنی تنقید جاری رکھیں۔
واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب مارچ 2026 کے آخر میں انہوں نے عید کے بعد ایک ریل شیئر کی تھی جس میں انہوں نے نماز کو ایک ’خوبصورت روحانی عمل‘ کہا تھا۔
Namita Thapar is an idol for many girls and is one of the prominent names in the Pharma sector.
She can be seen in this video comparing Namaz to Yoga and talking about the benefits of Namaz and community prayers in Masjids.
I fail to understand the purpose behind such a video. pic.twitter.com/bnB8gCr8tu
— पाकीट तज्ञ (@paakittadnya) April 15, 2026
اس ویڈیو میں انہوں نے نماز کے جسمانی اور ذہنی فوائد کا ذکر کیا، اسے ’پورے جسم کی ورزش‘ قرار دیا جو جسم میں لچک اور جوڑوں کی صحت بہتر بنا سکتی ہے۔ انہوں نے تشہد کی پوزیشن کو وجراسن سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہاضمے کے لیے مفید ہو سکتی ہے اور نماز کے مراقبے جیسے اثرات پر بھی روشنی ڈالی جو ذہنی دباؤ کم کرنے اور توجہ بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔














