اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) نے کراچی میں جاری میٹرک کے امتحانات کے دوران پرچے لیک کرنے والے ایک منظم گروہ کا سراغ لگاتے ہوئے چار ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔
ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کے مطابق، ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان اور کمشنر سید حسن نقوی کی ہدایت پر نقل مافیا کے خلاف شروع کی گئی اس مہم میں خفیہ اداروں کی مدد سے آٹھ ایسے واٹس ایپ گروپس کی نشاندہی کی گئی جہاں امتحانی پرچے فروخت کیے جارہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: میٹرک امتحانات میں نقل مافیا کا راج، ایک اور پرچہ آؤٹ
ایس آئی یو کی جانب سے مختلف علاقوں میں مارے گئے چھاپوں کے دوران گرفتار ہونے والے مرکزی ملزم مبین خان کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ سائبر سیکیورٹی کا آخری سال کا طالب علم ہے۔
دورانِ تفتیش ملزم نے بتایا کہ اس نے اس مقصد کے لیے 13 واٹس ایپ گروپس بنا رکھے تھے، جن میں سے ہر گروپ میں ایک ہزار کے قریب طلبہ شامل تھے۔ ملزم ہر طالب علم سے 800 سے 1200 روپے وصول کرتا تھا اور اس نے انتہائی مختصر وقت میں ڈھائی لاکھ روپے کما لیے تھے۔
کارروائی کے دوران مبین خان کے علاوہ عبد الرزاق، بلال اور محمد اسامہ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ تفتیش سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شہر میں ایسے 10 سے زائد گروہ سرگرم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: میٹرک امتحانات میں نقل کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم مبین خان رابطوں کے لیے برطانیہ کا موبائل نمبر استعمال کررہا تھا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت سے بچ سکے۔
ایس آئی یو نے چاروں ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ اور ٹیلی گراف ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور گروہ کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ امتحانات کی شفافیت پر سمجھوتہ کرنے والے کسی بھی شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی۔














