امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے سلسلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کا مجوزہ دورہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایران کی جانب سے رابطے یا جواب میں تاخیر ہوئی، جس کے باعث دورے کا شیڈول تبدیل کرنا پڑا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ جے ڈی وینس کا یہ دورہ کسی بھی وقت دوبارہ طے کیا جا سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے امکانات موجود ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ طویل المدتی معاہدے کے بغیر جنگ بندی میں توسیع کے حق میں نہیں ہیں۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد جانے والے وفد سے متعلق ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک ایرانی نیوز چینل سے گفتگو میں کہاکہ جب تک مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوں، ایران اپنی شرکت کے بارے میں فیصلہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ایرانی بحری جہازوں اور سمندری تجارت کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اسے سمندری قزاقی اور ریاستی دہشتگردی کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہو رہی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ دونوں فریق آئندہ کیا حکمت عملی اپنائیں گے۔













