امریکا نے ایران کو اسلحہ فراہم کرنے کے الزام میں متعدد کمپنیوں اور افراد پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان پابندیوں کی زد میں ایران کے ساتھ ساتھ ترکیہ اور متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے افراد اور ادارے بھی آئے ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے ان اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ افراد اور کمپنیوں پر ہتھیاروں کی ترسیل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے امریکی کارروائیوں کو جنگی اقدام قرار دیتے ہوئے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار کیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے بحری جہازوں پر کارروائی اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بندرگاہوں کی ناکہ بندی جنگی اقدام کے مترادف ہے اور تجارتی جہاز پر حملہ اور عملے کو یرغمال بنانا جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے اور اپنے قومی مفادات کے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے جھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پاکستان کے مجوزہ دورے کے مؤخر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اس سے قبل امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے مثبت ردعمل نہ آنے کے باعث یہ دورہ ملتوی کیا گیا ہے، تاہم صورتحال بہتر ہونے کی صورت میں فیصلے پر نظرثانی ممکن ہے۔
ادھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایرانی وفد کے اسلام آباد جانے سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
انہوں نے امریکا پر غیر سنجیدگی اور کشیدگی بڑھانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔













