صوبائی اسمبلی کا اجلاس عمران خان اسٹیڈیم میں منعقد کیے جانے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے متفقہ طور پر بائیکاٹ کر دیا، جبکہ اسے عوامی وسائل کا ضیاع اور سیاسی نمائش قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں کیوں بلایا گیا؟
قائد حزب اختلاف ڈاکٹر عباداللہ خان کی صدارت میں اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا، جس میں تمام پارلیمانی لیڈرز نے متفقہ طور پر اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر عباداللہ خان نے کہا کہ اسمبلی کی عمارت موجود ہونے کے باوجود اسٹیڈیم میں اجلاس منعقد کرنا غیر ضروری اور عوامی پیسے کا ضیاع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے شہریوں کو بے جا مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام محض سیاسی شو اور نمائشی سرگرمی ہے، جس کے ذریعے عوامی وسائل کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول وزیر اعلیٰ کی تقریر کے لیے غیر معمولی انتظامات بھی بلاجواز ہیں۔
اپوزیشن رہنما نے سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران ایسے بڑے اجتماعات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہزاروں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی سے امن و امان پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ صوبہ پہلے ہی بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’عمران خان اسٹیڈیم‘ نام رکھنے کے خلاف کیس، حکومت نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگ لی
انہوں نے مزید کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اسمبلی فلور موجود ہے، لیکن حکومت عوامی ریلیف کے بجائے نمائشی سیاست میں مصروف ہے۔ ان کے مطابق سرکاری وسائل کا استعمال مخصوص سیاسی شخصیات کی تعریف کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر عباداللہ خان نے خبردار کیا کہ اپوزیشن سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی اور مطالبہ کیا کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ضائع کرنا فوری طور پر بند کیا جائے۔














