خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسمبلی ہال کے بجائے پشاور کے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوگا، جس کے لیے انتظامات کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہیں۔
اسپیکر ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس 22 اپریل کو عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوگا اور تمام اراکین کو اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق اسپیکر نے اپنے قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اجلاس کرکٹ اسٹیڈیم میں طلب کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب اسمبلی اجلاسوں میں غیر حاضری کی وجہ کیا ہے؟
یاد رہے کہ گزشتہ روز سہیل آفریدی نے مردان میں پارٹی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اجلاس کھلے میدان میں کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے ساتھ کرکٹ اسٹیڈیم کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا، جبکہ پولیس کو سیکیورٹی انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق اجلاس کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ اجلاس میں بڑی تعداد میں پارٹی ورکرز اور عام لوگوں کی آمد متوقع ہے، جس کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
حکومتی ارکان کے مطابق اجلاس اوپن ہوگا اور اس سے عام لوگوں کو اجلاس براہِ راست دیکھنے کا بھی موقع ملے گا۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس، اپوزیشن حکومت سے کیوں ناراض ہوئی؟
کرکٹ اسٹیڈیم میں اجلاس کے انعقاد پر حکومت پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ پشاور کے اسپورٹس جرنلسٹ عمران یوسفزئی نے کھیل کے میدان میں اجلاس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ خیبر پختونخوا اور پشاور کے شائقین کرکٹ کے لیے بری خبر ہے۔
‘اب اس کے بعد اگر کسی نے پی ایس ایل اور ڈومیسٹک کرکٹ پشاور کو نہ ملنے کا شکوہ کیا تو کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں ہوگا کہ کرکٹ کے میدان میں اسمبلی کا اجلاس کس نے منعقد کیا، جو یہ نئی روایت قائم کی جا رہی ہے۔’
اپوزیشن اراکین کے مطابق کھیلوں کے میدانوں کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے۔ اپوزیشن رکن شازیہ تماش کے مطابق اہم اجلاس کے لیے سکیورٹی کا انتظام بھی ایک مشکل کام ہے۔














