معروف عالمی دوا ساز کمپنی ’مرک اینڈ کو‘ نے گوگل کلاؤڈ کے ساتھ ایک بڑے اسٹریٹجک معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت صحت اور ادویات سازی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔
امریکی ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں منعقدہ ’گوگل کلاؤڈ نیکسٹ‘ کانفرنس کے دوران اعلان کیا گیا کہ مرک اگلے کئی برسوں میں گوگل کے اے آئی انفراسٹرکچر، ماہرین اور ’جیمنی انٹرپرائز‘ پلیٹ فارم کے استعمال پر تقریباً 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا صحت سے متعلق مشوروں کے لیے چیٹ بوٹس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟
اس شراکت داری کا بنیادی مقصد ادویات کی تحقیق، مینوفیکچرنگ اور ریگولیٹری مراحل کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیز تر بنانا ہے۔
مرک کے چیف انفارمیشن اینڈ ڈیجیٹل آفیسر ڈیو ولیمز کے مطابق یہ محض ایک عام خریداری نہیں بلکہ ایک طویل مدتی اشتراک ہے جو کم از کم ایک دہائی تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کمپنی پہلے ہی گوگل کی ٹیکنالوجی استعمال کر کے مختلف ممالک میں نئی ادویات کی رجسٹریشن کے لیے درکار دستاویزات کی تیاری کا وقت اور لاگت آدھی کر چکی ہے اور اب اس ماڈل کو عالمی سطح پر پھیلایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا مصنوعی ذہانت صحت کی دنیا میں بھی انقلاب لا سکتی ہے؟
گوگل کلاؤڈ کے سی ای او تھامس کرین نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گوگل کا مقصد اے آئی کو معاشرے کے لیے مثبت بنانا ہے اور اس کا بہترین طریقہ لوگوں کو بیماریوں کے علاج تلاش کرنے میں مدد دینا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مرک کے پاس شعبہ صحت کی مہارت ہے جبکہ گوگل انہیں وہ ٹولز اور پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے جس سے ادویات کی تیاری کا عمل کئی سالوں سے سمٹ کر مہینوں میں آسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاعلاج بیماریوں کا علاج: اب تک ناممکن کام کا بیڑا مصنوعی ذہانت نے اٹھا لیا
اس شراکت داری کے تحت گوگل کے انجینئرز مرک کی ٹیموں کے ساتھ مل کر لیبارٹری تجربات کی کمپیوٹرائزڈ سمیلیشنز اور کلینیکل رپورٹس کی تیاری پر کام کریں گے۔














