سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی کمپیوٹر پر ہونے والی سرگرمیوں بشمول کی بورڈ کے بٹن دبانے اور ماؤس کلکس کو ٹریک کرے گی تاکہ اپنی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ بزنس پالیسی تنازع: یورپی یونین نے میٹا کے خلاف تحقیقات تیز کر دیں
فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے اپنے ملازمین کو آگاہ کیا کہ ایک نیا ٹول کمپنی کے کمپیوٹرز اور اندرونی ایپس پر کام کرے گا اور ان کی سرگرمیوں کو ریکارڈ کرے گا۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق، اگر ایسے اے آئی سسٹمز تیار کرنے ہیں جو روزمرہ کمپیوٹر کے کاموں میں مدد دے سکیں تو انہیں حقیقی انسانی استعمال کی مثالیں درکار ہوں گی۔
ترجمان نے یہ بھی کہا کہ اس ڈیٹا کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا اور حساس معلومات کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔
تاہم کمپنی کے کچھ ملازمین نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیے: ٹیکنالوجی کی دنیا کا ایک اور بڑا قدم: مارک زکربرگ کا ’اے آئی کلون‘ میٹا عملے سے بات چیت کرے گا
ایک ملازم کے مطابق کمپیوٹر پر ہونے والی ہر چھوٹی سرگرمی کا ریکارڈ ہونا اور اسے اے آئی کی تربیت کے لیے استعمال کرنا ایک خوفناک رجحان محسوس ہوتا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب مزید ملازمتوں میں کٹوتیوں کا خدشہ موجود ہے۔
ایک سابق ملازم نے بھی اس اقدام کو کمپنی کی جانب سے اے آئی پر حد سے زیادہ زور دینے کی ایک اور مثال قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق میٹا اس سال پہلے ہی تقریباً 2000 ملازمین کو مختلف مراحل میں فارغ کر چکی ہے جبکہ حالیہ مہینوں میں بھرتیوں پر بھی جزوی پابندی عائد کی گئی ہے۔ کمپنی کی جاب لسٹنگز میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے مزید کٹوتیوں کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئے ٹریکنگ سسٹم کو ماڈل کیپیبلٹی انیشی ایٹو (ایم سی آئی) کا نام دیا گیا ہے۔ کمپنی کے شریک بانی اور سی ای او مارک زکربرگ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ سنہ 2026 اے آئی کے میدان میں بڑی تبدیلیوں کا سال ہوگا اور کمپنی اس ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
مزید پڑھیں: میٹا نے اپنے انجنیئرز نئی اے آئی ٹیم میں منتقل کردیے، ملازمین کی برطرفی کا امکان
ماہرین کے مطابق میٹا کا یہ قدم جہاں اے آئی کی ترقی میں مددگار ہو سکتا ہے وہیں یہ ملازمین کی پرائیویسی اور کام کے ماحول سے متعلق نئے سوالات بھی کھڑے کر رہا ہے۔














