میٹا نے اپنے انجنیئرز نئی اے آئی ٹیم میں منتقل کردیے، ملازمین کی برطرفی کا امکان

جمعہ 10 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے مصنوعی ذہانت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے اعلیٰ درجے کے ماہرین کو نئی قائم کردہ ٹیم میں منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بچپن سے سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا خاتون نے گوگل اور میٹا کے خلاف مقدمہ جیت لیا

رپورٹس کے مطابق یہ اقدام کمپنی کی وسیع تنظیم نو کا حصہ ہے، جس کا مقصد جدید خودکار نظام تیار کرنا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے کام کی رفتار کو بڑھانا ہے۔ نئی ٹیم کی قیادت کمپنی کے ایک سینئر عہدیدار کر رہے ہیں، جنہیں اس شعبے میں طویل تجربہ حاصل ہے۔

دستاویز کے مطابق ابتدا میں اس ٹیم میں شمولیت رضاکارانہ تھی، تاہم اب منتخب ماہرین کی منتقلی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا منصوبہ اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اسی لیے بہترین صلاحیتوں کو اس میں شامل کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میٹا کا نیا فیصلہ: کیا اب آپ کے انسٹاگرام ڈائرکٹ میسجز محفوظ ہونگے؟

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کمپنی بڑے پیمانے پر ممکنہ برطرفیوں کی تیاری کررہی ہے، جن میں ہزاروں ملازمین متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد اخراجات میں کمی اور کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔

نئی ٹیم کا ہدف ایسے خودکار نظام تیار کرنا ہے جو خود پروگرامنگ کر سکیں، پیچیدہ کام انجام دیں اور مصنوعات کی تیاری، جانچ اور فراہمی کے مراحل خود انجام دیں، جبکہ انسانی عملہ صرف نگرانی تک محدود رہے۔

یہ بھی پڑھیں: میٹا نے فیس بک، واٹس ایپ اور میسنجر پر اسکیم کی نشاندہی کرنے والے ٹولز متعارف کردیے

کمپنی کے سربراہ اس سے قبل عندیہ دے چکے ہیں کہ 2026 وہ سال ہوگا جب مصنوعی ذہانت کام کرنے کے طریقہ کار کو نمایاں طور پر تبدیل کر دے گی۔ ان کے مطابق مستقبل میں ایسے نظام متعارف کروائے جائیں گے جو افراد کی کارکردگی میں اضافہ کریں اور ٹیموں کے ڈھانچے کو مزید سادہ بنائیں۔

ماہرین کے مطابق اس حکمت عملی کے ٹیکنالوجی کی دنیا اور ملازمتوں کے مستقبل پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پاکستان میں موبائل فون اسمبلنگ میں 102 فیصد اضافہ، حقیقی صنعتی ترقی کی علامت ہے؟

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں