امریکا میں مقیم سکھ تنظیم ‘سکھ فار جسٹس’ (SFJ) نے ایک بھارتی سفارتکار کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ جاری کی ہے، جس میں خالصتان ریفرنڈم کے کارکنوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔
اس آڈیو لیک نے کینیڈا، برطانیہ اور امریکا میں مقیم سکھ رہنماؤں کے خلاف ہونے والے حالیہ پرتشدد واقعات کے تناظر میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈین وزیراعظم بتائیں، مودی سے ہردیپ سنگھ نجر کے قتل پر بات ہوئی؟ سکھ فار جسٹس
سکھ فار جسٹس کے مطابق اس آڈیو میں اٹلی کے شہر میلان میں تعینات ایک بھارتی سفارتکار کو کارکنوں کو متنبہ کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ خالصتان تحریک کے سلسلے میں ’ایک یا 2 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں‘۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ یہ ریکارڈنگ بیرون ملک مقیم خالصتان نواز کارکنوں کو نشانہ بنانے اور ہراساں کرنے کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔
BREAKING
“WE WILL KILL YOU” — DEATH THREAT TO KHALISTAN REFERENDUM ACTIVISTS —INDIA’S TRANSNATIONAL REPRESSION EXPOSED IN ITALY AFTER DOUBLE KILLINGS
Within hours of Sikhs For Justice’s X account sharing a post showing Indian Consulate officials being honored at Gurdwara Mata… pic.twitter.com/cV4cjZFoi1
— Sikhs For Justice (@SFJ_US_Official) April 21, 2026
قابلِ ذکر ہے کہ اس مبینہ دھمکی کے کچھ عرصہ بعد ہی کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کو قتل کردیا گیا تھا، جبکہ برطانیہ میں اوتار سنگھ کھنڈا پُراسرار طور پر انتقال کر گئے اور امریکا میں گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش ناکام بنائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کا امریکا سے بھارت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
سکھ فار جسٹس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس آڈیو ریکارڈنگ اور متعلقہ سفارتکار کی شناخت کے تمام تفصیلات کینیڈا، برطانیہ اور امریکا کے انٹیلیجنس اداروں کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ ماورائے عدالت قتل کے ان واقعات کی تحقیقات میں مدد مل سکے۔
BREAKING — AUDIO LEAK:
CHILLING “DEATH WARNING” BY AN INDIAN DIPLOMAT TO KHALISTAN REFERENDUM ACTIVISTS AHEAD OF THE ASSASSINATION OF SHAHEED NIJJAR & THE DEATH OF SHAHEED KHANDA:
“One or two people… might suffer a loss of life.” — Indian Diplomat
KILLINGS OF PRO-KHALISTAN… pic.twitter.com/ZuzZVtI7S0
— Gurpatwant Singh Pannun (@SFJGenCounsel) April 22, 2026
تنظیم کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ریکارڈنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ خالصتان ریفرنڈم کے حامیوں کے خلاف عالمی سطح پر ایک منظم مہم چلائی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے بھارتی حکومت کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ کردیا
دوسری جانب بھارتی حکام نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی غیر ملکی قتل کی سازشوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ تاہم کینیڈا کے سابق وزیراعظم وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اور امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے بھارت پر ماورائے عدالت کارروائیوں کے الزامات اور نکھل گپتا کی چیک جمہوریہ سے امریکا حوالگی نے اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر ایک سنگین سفارتی تنازع کی شکل دے دی ہے۔














