امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنی ایک حالیہ پوسٹ میں بھارت کے حوالے سے انتہائی سخت اور توہین آمیز الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے اسے جہنم کا گڑھا قرار دے دیا ہے۔
برطانوی شہریت کے تناظر میں کی جانے والی اس پوسٹ نے بین الاقوامی سطح پر ایک نیا سفارتی تنازع کھڑا کردیا ہے، جس سے پاک بھارت تعلقات اور خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کی کس غلطی کی وجہ سے بھارت امریکا معاہدہ کھٹائی میں پڑا، امریکی وزیر تجارت نے بتادیا
سفارتی ماہرین کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کسی ملک کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال اس ریاست کی بنیادی انسانی حقوق اور مجموعی صورتحال کی انتہائی ابتر حالت کی عکاسی کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان امریکہ اور بھارت کے دوطرفہ تعلقات میں بڑھتی ہوئی خلیج کا واضح اشارہ ہے، جو کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہندوتوا نظریے پر مبنی انتہا پسندانہ پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔
Trump in a detailed note, posted on Truth Social on the issue of citizenship compares "China & India" as hellhole. pic.twitter.com/BDtypOKG2M
— Sidhant Sibal (@sidhant) April 23, 2026
بین الاقوامی سطح پر بھارت کی اس سفارتی تنہائی کو ‘معرکہ حق’ میں ہونے والی ہزیمت کے بعد ایک اور بڑا دھچکا تصور کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش، بھارت امریکا میں بھی ریاستی دہشتگردی میں ملوث نکلا
دوسری جانب بھارتی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے امریکی صدر کے اس بیان کو بھارت کی توہین قرار دیتے ہوئے مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی ایک کمزور وزیراعظم ثابت ہوئے ہیں جن کی ناکام خارجہ پالیسی کے باعث آج بھارت کو عالمی سطح پر ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
اپوزیشن کا مزید کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ان سے امریکی صدر کو کسی سخت جواب کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کے مابین ثالثی: پاکستان کے نمایاں کردار پر بھارت میں ہنگامہ، کانگریس نے مودی حکومت کو دھو ڈالا
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور حالیہ بیانات بھارتی تاریخ کے سیاہ ترین باب کے طور پر دیکھے جارہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد نئی دہلی میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، جبکہ عالمی برادری اس صورتحال کو جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی سفارتی صف بندیوں کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔














