22 اپریل 2025 کو پہلگام کی خوبصورت وادی بائسران میں سیاح قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اچانک فضا گولیوں کی آواز سے گونج اٹھی اور چند لمحوں میں یہ جنت نظیر مقام خوف اور خون کی تصویر بن گیا۔ اس حملے میں 28 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں سیاح اور ایک مقامی گائیڈ بھی شامل تھے۔ بھارتی میڈیا نے فوری طور پر اسے مذہبی بنیادوں پر ہونے والا حملہ قرار دیا، تاہم کئی اہم سوالات نے اس بیانیے پر شکوک پیدا کر دیے۔ اتنی سخت سیکیورٹی کے باوجود حملہ کیسے ممکن ہوا؟ انٹیلی جنس اطلاعات کے باوجود اسے روکا کیوں نہ جا سکا؟ اور ذمہ داری قبول کرنے والے گروہ کے حوالے سے ابہام کیوں برقرار رہا؟ یہی سوالات ’فالس فلیگ آپریشن‘ کی بحث کو جنم دیتے ہیں۔
پاکستان نے اس واقعے کی فوری مذمت کی، لیکن بھارت نے حسبِ روایت الزام پاکستان پر عائد کیا اور میڈیا میں کشیدگی کو مزید ہوا دی گئی۔ اس کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے اور پاکستانی شہریوں کو نکالنے جیسے اقدامات سامنے آئے، جبکہ مئی 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ عسکری جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پاکستان نے ’معرکہ حق‘ اور بعد ازاں ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کے تحت بھرپور جواب دیا، جس کے نتیجے میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی اور بالآخر عالمی دباؤ کے تحت سیز فائر ہوا۔ بعد میں بعض بھارتی اور عالمی حلقوں کی جانب سے بھی اس واقعے پر سوالات اٹھائے گئے، حتیٰ کہ سابق بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ملوث ہونے کے ثبوت نہ ہونے کا عندیہ دیا۔ ایک سال گزرنے کے باوجود یہ واقعہ آج بھی ایک اہم سوال بنا ہوا ہے کہ آیا یہ محض دہشتگردی تھی یا واقعی ایک منظم فالس فلیگ آپریشن۔













