سپریم کورٹ آف پاکستان نے چین کے ساتھ عدالتی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی اصلاحات، جدید تربیت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اشتراک کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اگست 2025 میں سپریم پیپلز کورٹ آف چین کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ’ایم او یو‘ پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک کے عدالتی اداروں کے درمیان تعاون کو بڑھایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، گریڈ ایک تا 15 کی بھرتیوں پر عائد پابندی ختم
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ضلعی عدلیہ کے نمایاں ججز کو بین الاقوامی تربیت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ نچلی سطح پر عدالتی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
اس سلسلے میں بلوچستان سے ایک خاتون ایڈیشنل سیشن جج اور مٹھی کے سینیئر سول جج کی چین روانگی متوقع ہے، جہاں وہ پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام میں حصہ لیں گے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ بنوں اور ڈیرہ غازی خان کے ججز مئی 2026 میں شنگھائی میں قانونی تربیتی کورس کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: غیر حاضری کو چھٹی میں تبدیل کرنے کے بعد ملازم کو برطرف کیا جا سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کا اہم سوال
سپریم کورٹ کے مطابق پاکستانی آئی ٹی ماہرین کا ایک وفد جولائی 2026 میں بیجنگ کا دورہ کرے گا، جہاں وہ عدالتی نظام میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی کے تجربات کا مشاہدہ کریں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نچلی سطح پر عدالتی صلاحیت کو بہتر بنانا اور نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔














