غزہ میں بچے قوتِ گویائی سے کیوں محروم ہو رہے ہیں؟

اتوار 26 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غزہ میں اسرائیلی حملوں اور مسلسل جنگی صورتحال کے باعث بڑی تعداد میں بچے ذہنی صدمے کا شکار ہو کر بولنے کی صلاحیت کھونے لگے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تقریباً 11 لاکھ بچوں کو فوری ذہنی صحت اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض بچوں میں سر پر چوٹ، اعصابی نقصان یا دھماکوں کے اثرات کے باعث گویائی متاثر ہوئی، جبکہ کئی بچوں میں شدید خوف اور ذہنی دباؤ کے نتیجے میں خاموشی طاری ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ میں ہر گھنٹے 3 خواتین اور 5 بچے شہید ہورہے ہیں، رپورٹ

غزہ سٹی کے حماد اسپتال کے مطابق بچوں میں بولنے کی قوت ختم ہونے کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض بچے مکمل طور پر بولنے سے قاصر ہو جاتے ہیں، جسے ماہرین سلیکٹو میوٹزم یا نفسیاتی گویائی بندش قرار دیتے ہیں۔

ماہر نفسیات کترین گلاٹز بروبک کے مطابق مسلسل بمباری، خاندان کے افراد کی ہلاکت، زخمی ہونے یا ہر وقت خطرے میں رہنے سے بچوں کا ذہن دفاعی حالت میں چلا جاتا ہے، جس سے وہ بولنا، کھیلنا اور سیکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: اسرائیل حماس جنگ کے دوران غزہ میں 21 ہزار بچے معذوری کا شکار ہوگئے، اقوام متحدہ کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ غزہ میں صورتحال دیگر جنگ زدہ علاقوں سے مختلف اور زیادہ سنگین ہے کیونکہ وہاں نہ تحفظ موجود ہے، نہ علاج کی سہولت، اور نہ ہی محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا راستہ۔

ماہرین کے مطابق ایسے بچوں کی بحالی ممکن ہے، مگر اس کے لیے مسلسل علاج، خصوصی نفسیاتی مدد اور محفوظ ماحول ضروری ہے۔ تاہم جنگ کے باعث غزہ میں علاج کی سہولیات بھی شدید متاثر ہو چکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp