مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی معروف دینی درسگاہ ’سراجُ العلوم‘ کو غیر قانونی ادارہ قرار دیتے ہوئے اسے انسدادِ غیرقانونی سرگرمیاں ایکٹ (UAPA) کے تحت نوٹیفائی کر دیا ہے۔ حکام نے ادارے کے کالعدم تنظیم جماعتِ اسلامی سے خفیہ روابط، مالی و انتظامی بے ضابطگیاں اور انتہا پسندی کو فروغ دینے جیسے الزامات لگائے ہیں۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ جموں کشمیر میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حمایت میں پوسٹرز لگ گئے
ڈویژنل کمشنر کشمیر انشول گرگ کی جانب سے جاری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ’سراجُ العلوم‘ امام صاحب شوپیاں کو UAPA کی دفعہ 8(1) کے تحت غیرقانونی قرار دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ادارے کی عمارت سیل کرنے اور مالی اثاثے منجمد کرنے سمیت دیگر کارروائیاں ممکن ہوں گی۔
انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ ایس ایس پی شوپیاں کی رپورٹ کی بنیاد پر کیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ادارے میں زمین کے حصول، رجسٹریشن اور مالی معاملات میں سنگین بے ضابطگیاں پائی گئیں، جبکہ ریکارڈ سے جماعتِ اسلامی سے مبینہ روابط کے شواہد بھی ملے ہیں۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ادارے میں مالی شفافیت کا فقدان، فنڈز کے مشتبہ استعمال اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں نے خدشات کو جنم دیا۔ ساتھ ہی یہ بھی الزام لگایا گیا کہ وقت کے ساتھ ادارے نے ایسا ماحول پیدا کیا جو انتہا پسندی کے لیے سازگار تھا، اور اس کے کچھ سابق طلبا عسکری سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے رہائشی غازی شہزاد کی ویڈیو پر پاک فوج مخالف پی ٹی آئی کا پروپیگنڈا بے نقاب
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ادارے کو مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، تاہم اس کی جانب سے جمع کرائے گئے اعتراضات کو حقائق کے منافی اور قانونی طور پر کمزور قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ ’سراجُ العلوم‘ ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے جو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم بھی فراہم کرتا ہے اور اس کے زیر انتظام اسکول بارہویں جماعت تک تعلیم دیتا ہے، جسے جموں و کشمیر بورڈ سے تسلیم شدہ حیثیت حاصل ہے۔













