نئی سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وزن کم کرنے کا تعلق صرف خوراک کی مقدار یا قسم سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی ہے کہ انسان کھانے کے بارے میں کیا سوچتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزن کم کرنے والی ادویات لینے سے پہلے کیا جاننا ضروری ہے؟
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین کہتے ہیں کہ ذہن اور جسم کے درمیان تعلق (مائنڈ باڈی کنکشن) بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساس کو متاثر کرتا ہے۔ یعنی اگر انسان کسی کھانے کو لذیذ اور تسلی بخش سمجھ کر کھائے تو دماغ کا ردعمل بھی مختلف ہوتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انسان قدرتی طور پر زیادہ کیلوریز اور میٹھے کھانوں کی طرف مائل ہوتا ہے جس کی وجہ ارتقائی طور پر توانائی حاصل کرنے کی ضرورت رہی ہے۔ تاہم آج کے دور میں زیادہ چکنائی اور پروسیسڈ غذاں کی دستیابی نے صحت مند رہنے کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
یونیورسٹی آف مشی گن کی پروفیسر ایشلے گیہاراڈٹ کے مطابق جدید پراسیسڈ فوڈز اس قدر طاقتور ہوتے ہیں کہ یہ عام اور قدرتی غذاؤں کے ذائقے کو دبا دیتے ہیں جس سے انسان کو صحت مند کھانوں میں کم دلچسپی محسوس ہوتی ہے۔
تاہم تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ صرف کیلوریز کم کرنا ہی کافی نہیں بلکہ کھانے کے بارے میں ذہنی رویہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مزید پڑھیے: کیا کچھ وقفوں کے لیے کھانا چھوڑنا وزن کم کرنے میں مؤثر ہے؟
کھانے سے لطف اندوز ہونا جسمانی طور پر بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے کیونکہ توقعات بھوک کے احساس کو متاثر کرتی ہیں۔
اس حوالے سے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں شرکا کو ایک ہی ملک شیک دیا گیا لیکن کچھ کو بتایا گیا کہ یہ کم کیلوریز والا ہے اور کچھ کو یہ کہ یہ لذیذ اور زیادہ کیلوریز والا ہے۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ جن لوگوں نے اسے لذیذ سمجھا ان میں بھوک بڑھانے والا ہارمون نمایاں طور پر کم ہوا جبکہ دوسرے گروپ میں ایسا کم دیکھنے میں آیا۔
ماہرین کے مطابق لیبلنگ بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب کسی فوڈ آئٹم کو صحت بخش قرار دیا جائے تو لوگ اکثر اسے کم تسلی بخش محسوس کرتے ہیں جبکہ ’ٹیسٹی‘ کے طور پر پیش کیا جائے تو زیادہ اطمینان محسوس ہوتا ہے۔
تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ کبھی کبھار پسندیدہ چیزیں کھانے سے وزن کم کرنے کے عمل پر منفی اثر نہیں پڑتا بلکہ بعض صورتوں میں مسلسل سخت پابندی بعد میں زیادہ کھانے کا سبب بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: کون سے کیمیکلز نوعمر افراد میں وزن کم کرنے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں؟ نئی تحقیق
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ غیر پروسیسڈ غذا، پروٹین، پھل اور سبزیاں خوراک کا حصہ ہوں جبکہ اعتدال کے ساتھ کبھی کبھار پسندیدہ کھانوں سے بھی لطف لیا جائے۔
مجموعی طور پر تحقیق کا نتیجہ یہ ہے کہ صحت مند وزن برقرار رکھنے کے لیے صرف سخت پرہیز نہیں بلکہ متوازن سوچ اور کھانے سے مثبت تعلق بھی ضروری ہے۔
تحقیق کے مطابق صرف کیلوریز کم کر دینا ہی ہمیشہ وزن کم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا خاص طور پر جب انسان کھانے کو ایک پابندی یا مجبوری کے طور پر لے رہا ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کسی شخص کا رویہ مسلسل ریسٹرینٹ یا سخت پرہیز والا ہو تو جسمانی طور پر بھوک کے ہارمونز اور میٹابولزم متاثر ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں وزن کم کرنے کا عمل سست پڑ سکتا ہے یا متوقع نتائج نہیں مل پاتے۔
یہ بھی پڑھیے: وزن کم کرنے کے لیے نئی مؤثر گولی آگئی، ایف ڈی اے منظوری رواں سال متوقع
اسی طرح گِلٹی فیلنگ یعنی کھانے کے بعد خود کو مجرم محسوس کرنا بھی وزن کم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب کوئی شخص کبھی کبھار کھائی گئی ٹریٹ پر زیادہ پریشان یا پشیمان ہوتا ہے تو اس سے ذہنی دباؤ بڑھتا ہے جو بعد میں زیادہ کھانے یا غیر متوازن خوراک کی طرف لے جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: وزن کم کرنے والی ادویات کا غیر محتاط استعمال صحت کے سنگین مسائل کھڑے کرتا ہے، ماہرین
ماہرین کا مشورہ ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے سخت پابندیوں کے بجائے متوازن اور مثبت رویہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے جس میں خوراک سے لطف اندوز ہونا بھی شامل ہو۔













