لاہور میں تیار کیا گیا 17ویں صدی کا نایاب فلکیاتی آلہ، جسے قدیم دور کا ‘فلکیاتی کمپیوٹر’ کہا جا سکتا ہے، لندن میں نیلامی کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔ یہ پیتل سے تیار کردہ اسطرلاب تاریخی اور سائنسی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ نادر آلہ کئی برسوں تک جے پور کے شاہی خاندان کے ذخیرے کا حصہ رہا۔ اسے لندن میں سوتھبیز گیلری میں 24 سے 29 اپریل 2026 تک نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ اس اسطرلاب کی متوقع قیمت تقریباً 94 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث دنیا بھر کے خریداروں اور تاریخ دانوں کی توجہ اس جانب مبذول ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: فیریئر ہال میں قدیم گاڑیوں کی بہار، 102 سالہ رولز رائس توجہ کا مرکز
ماہرین کے مطابق اسطرلاب اپنے دور کا ایک جدید ترین سائنسی آلہ تھا، جو آج کے اسمارٹ فون جیسی کئی سہولیات فراہم کرتا تھا۔ اس کے ذریعے سورج طلوع اور غروب ہونے کے اوقات معلوم کیے جاتے تھے، عمارتوں کی اونچائی ناپی جاتی تھی، کنوؤں کی گہرائی معلوم کی جاتی تھی اور فاصلے کا حساب لگایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ یہ نجومی حسابات اور زائچے بنانے میں بھی استعمال ہوتا تھا۔

اس تاریخی آلے کی خاص بات یہ ہے کہ اسے 17ویں صدی کے اوائل میں لاہور میں تیار کیا گیا تھا، جب مغل دور میں لاہور ایسے سائنسی آلات کی تیاری کا اہم مرکز بن چکا تھا۔
یہ اسطرلاب 2 بھائیوں، قیوم محمد اور مقیب محمد نے تیار کیا تھا، جو مغل دربار کے ماہر کاریگر تھے۔ انہوں نے یہ آلہ مغل امیر آقا افضل کے لیے بنایا تھا، جو شہنشاہ جہانگیر اور شاہجہان کے دور میں خدمات انجام دیتے رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان بھائیوں نے صرف 2 ایسے اسطرلاب تیار کیے تھے، جس کے باعث یہ نمونہ انتہائی نایاب تصور کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: قدیم ترین فن پارے: انڈونیشیا میں 68 ہزار سال پرانی پینٹنگ دریافت
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تاریخی شے کی نیلامی مغل دور کی سائنسی ترقی، مہارت اور اختراع کا شاندار ثبوت ہے، اور توقع ہے کہ یہ دنیا بھر کے مؤرخین، سائنس دانوں اور عجائب گھروں کی دلچسپی کا مرکز بنے گا۔












