چیئرمین پاکستان تحریک انصاف گوہر علی خان نےکہا ہے کہ انہیں ابھی پتہ چلا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو گزشتہ شب آنکھ میں انجیکشن اور طبی معائنے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا تھا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ علاج سے متعلق پیش رفت کے باوجود ان کے بنیادی مطالبات تاحال پورے نہیں کیے گئے۔
It was just confirmed to me that Khan Sab was taken to PIMS last night for eye injection and medical check up.
I would add that whatever the treatment our concern remains unanswered – Khan sab and Bushra BB be shifted to Hospital for treatment under the supervision of personal…— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) April 28, 2026
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مکمل علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے، جہاں ان کا معائنہ اور علاج ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہو اور اہلِ خانہ بھی ان کے ہمراہ موجود ہوں۔
گوہر علی خان نے اس مطالبے کو بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی طویل عرصے سے اس کے نفاذ کا مطالبہ کر رہی ہے اور اسے فوری طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے کیا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ ٹھیک ہوگئی؟
یاد رہے کہ اب سے کچھ دیر پہلے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف کو آنکھوں کے فالو اپ علاج کے لیے 28 اپریل کو اسپتال لایا گیا، جہاں انہیں اینٹی وی ای جی ایف انٹرا ویٹریل انجیکشن کی چوتھی خوراک دی گئی۔
اعلامیے کے مطابق طبی طریقہ کار سے قبل مریض کی مکمل رضامندی حاصل کی گئی، جبکہ ماہرینِ چشم نے تفصیلی معائنہ کیا جس کے بعد مریض کو طبی طور پر مستحکم قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے آپ نے عمران خان کو آنکھ کی بیماری سے متعلق جھوٹ کیوں بولا؟ شیر افضل مروت محمود اچکزئی و دیگر پر برس پڑے
پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی (OCT) کے نتائج میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ مزید بتایا گیا کہ مکمل آگاہی اور رضامندی کے ساتھ معیاری طبی نگرانی میں آپریشن تھیٹر میں طریقہ کار انجام دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ عمل ڈے کیئر سرجری کے طور پر مکمل کیا گیا اور مریض طریقہ کار سے قبل، دوران اور بعد میں بھی مستحکم رہا۔ بعد ازاں ضروری نگہداشت، فالو اپ ہدایات اور دستاویزات فراہم کر کے مریض کو ڈسچارج کر دیا گیا۔













