متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے، جس کا اطلاق یکم مئی سے ہوگا۔
تیل برآمد کرنے والے ان عالمی اتحادوں اور ان کے عملی قائد سعودی عرب کو بڑا دھچکا پہنچا ہے، ایسے وقت میں جب ایران سے جاری جنگ نے عالمی توانائی کی منڈی کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوپیک پلس کا ستمبر کے لیے تیل کی پیداوار میں 5 لاکھ 47 ہزار بیرل یومیہ اضافے کا اعلان
ایک دیرینہ رکن رہنے والے متحدہ عرب امارات کی اوپیک سے علیحدگی کو ایک غیر متوقع پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے تنظیم کے اندر انتشار پیدا ہونے اور اس کی مجموعی طاقت کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔
اوپیک عموماً جغرافیائی سیاست اور پیداواری کوٹہ جیسے معاملات پر اختلافات کے باوجود ایک متحد موقف پیش کرتا رہا ہے۔
Breaking News:
The UAE has announced it will withdraw from Opec. https://t.co/1JE2i3wuj0— Philipp Straehl (@Philipp_Straehl) April 28, 2026
خلیجی ممالک پہلے ہی آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جو ایران اور عمان کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 5واں حصہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔
ایرانی دھمکیوں اور جہازوں پر حملوں کے باعث ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: اوپیک پلس کا ستمبر کے لیے تیل کی پیداوار میں 5 لاکھ 47 ہزار بیرل یومیہ اضافے کا اعلان
ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے نکلنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے اوپیک پر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھانے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے خلیجی ممالک کو امریکی فوجی تحفظ اور تیل کی قیمتوں کے درمیان بھی تعلق جوڑتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ان ممالک کا دفاع کرتا ہے مگر وہ بلند قیمتوں کے ذریعے دنیا کا استحصال کرتے ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات نے ایران کے حملوں کے دوران دیگر عرب ممالک کے رویے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
مزید پڑھیں: کراچی بندرگاہ سے متحدہ عرب امارات کے لیے نئی فیڈر شپنگ سروس شروع
اماراتی صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے پیر کو گلف انفلوئنسرز فورم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک نے لاجسٹک سطح پر تو ایک دوسرے کا ساتھ دیا، مگر سیاسی اور عسکری طور پر ان کا ردعمل تاریخی طور پر کمزور رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عرب لیگ سے تو اس قسم کے کمزور مؤقف کی توقع تھی، تاہم خلیج تعاون کونسل سے ایسی کارکردگی غیر متوقع اور حیران کن ہے۔












