18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر سزا، پنجاب اسمبلی کے رکن نے عدالت سے اجازت کا مطالبہ کیوں کیا؟

منگل 28 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب اسمبلی نے 27 اپریل 2026 کو دی پنجاب میرج ریسٹرنٹ بل جسے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 بھی کہا جا رہا ہے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔

بل کے تحت صوبے بھر میں لڑکیوں اور لڑکوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کردی گئی ہے۔ یہ بل کافی عرصے سے زیر التوا تھا جسے منظور کرلیا۔ اس اقدام کو وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں بچیوں کے تحفظ کے لیے تاریخی قانون سازی قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: لڑکی کی شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سال مقرر، پنجاب اسمبلی میں بل کثرت رائے سے منظور

فروری 2026 میں پنجاب اسمبلی میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 پیش کیا گیا۔ ایوان نے اسے 2 ماہ کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے حوالے کردیا تھا۔

اپریل 2026 میں قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈیولپمنٹ نے بل کا جائزہ لیا۔

اپریل 2026 کے وسط میں چیئرپرسن پیر اشرف رسول کی زیر صدارت اسٹینڈنگ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے اجلاس میں بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد نے بل کی حمایت کی اور اسے بچیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا۔ اس کے بعد 27 اپریل کو بل اسمبلی کے اجلاس میں وزیر برائے پارلیمانی امور نے پیش کیا، اور تفصیلی بحث کے بعد اسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

بل میں نوآبادیاتی دور کے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929 کی شقوں کو سخت اور جدید بنایا گیا ہے۔ 18 سال سے زیادہ عمر افراد کا کم عمر بچے یا بچی سے نکاح اب غیر ضمانتی جرم قرار دیا گیا ہے۔

بل کے مطابق والدین یا سرپرست کی معاونت پر 2 سے 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

اس کے علاوہ 18 سال سے کم عمر کے کسی بھی بچے یا بچی کا نکاح رجسٹرڈ کرنے پر ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

حکومتی رکن ذوالفقار علی شاہ نے بل پر تنقید کیوں کی؟

حکومتی رکن ذوالفقار علی شاہ نے بل کی بعض شقوں پر شدید احتجاج کیا اور کہاکہ 18 سال سے پہلے شادی کے لیے عدالت سے اجازت لینے کا راستہ کھلا رکھا جائے۔

’اگر اللہ نے چار شادیوں کی اجازت دی ہے تو کرلیں، اگر کسی کا بچہ یا بچی 18 سال سے پہلے شادی کرنا چاہتا ہے تو کیا وہ پہلے زنا کرے یا لواطت کرے؟

انہوں نے بل کو سماجی اور مذہبی پہلوؤں سے بالاتر قرار دینے پر تنقید کی اور کہاکہ قانون کو معاشرتی اقدار پر غالب نہ بنایا جائے۔

وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بل کا مکمل دفاع کیا اور ذوالفقار علی شاہ کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ چھوٹی بچیوں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ ان کی شادیاں ہو رہی ہیں، اسلامی شریعت کورٹ نے سندھ اسمبلی کے اسی نوعیت کے بل کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ذہنی و جسمانی پختگی برابر ہونی چاہیے، کوئی بھی کام کرنا ہو تو اس کے لیے آئی ڈی کارڈ ضروری ہے، لیکن شادی کرنی ہے تو صرف اجازت چاہیے؟

انہوں نے کہاکہ اگر کوئی نوجوان وقت سے پہلے جوان ہوگیا تو وہ شادی کا انتظار کرے نہ کہ کوئی گناہ کرے، شہباز شریف کے دور میں شادی کی عمر 16 سال تھی، اب اسے 18 سال کیا جا رہا ہے۔

عظمیٰ بخاری نے تجویز دی کہ شادی کے لیے اگر شناختی کارڈ نہیں تو برتھ سرٹیفکیٹ ضرور ہونا چاہیے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ بل بچیوں کی تعلیم، صحت اور تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ سندھ اور دیگر صوبوں میں اسی نوعیت کے قوانین کی حوصلہ افزائی کی جا چکی ہے۔

مزید پڑھیں: کینیڈین خاتون کی سوشل میڈیا پر پاکستانی لڑکے سے محبت، لوئر دیر آ کر شادی کر لی

ایوان میں بل پر بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان گرم بحث بھی دیکھی گئی۔

اب بل گورنر پنجاب کی منظوری کے بعد قانون بن جائےگا، جس کے بعد کم عمری کی شادیوں پر سخت قانونی کارروائی ممکن ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک ترکیہ عدالتی تعاون میں پیشرفت، پاکستانی جوڈیشل وفد کا استنبول کا اہم دورہ

ثبوت نہ کوئی گواہ، پولیس نے شوہر کے قتل میں ملوث بیوی اور اس کے خاندان کو کیسے بے نقاب کیا؟

’پروجیکٹ فریڈم‘ کی عارضی معطلی خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سمت ایک اہم اور بروقت قدم ہے ، وزیر اعظم شہباز شریف

کراچی شدید گرمی کی لپیٹ میں: حکومتی اقدامات پر شہریوں کی رائے

کراچی میں شدید گرمی کی لہر: کن احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے؟

ویڈیو

کراچی شدید گرمی کی لپیٹ میں: حکومتی اقدامات پر شہریوں کی رائے

کراچی میں شدید گرمی کی لہر: کن احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے؟

معرکہ حق: بھارت اب پاکستان کی طرف دشمنی کی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گا، اسلام آباد کے عوام کی رائے

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی