چترال کی کالاش وادیاں یونیسکو کی ‘ورلڈ ہیریٹیج ٹینٹیٹو لسٹ’ میں شامل

بدھ 29 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں واقع خوبصورت کالاش وادیوں کو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی ‘ورلڈ ہیریٹیج ٹینٹیٹو لسٹ’ یعنی عالمی ورثہ کی عبوری فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جو اس منفرد ثقافت کے لیے عالمی اعزاز ہے۔

کالاش وادیاں چترال کے دور افتادہ علاقوں بمبوریت، بریر اور رمبور پر مشتمل ہیں، جہاں 4 ہزار سے زائد کالاش افراد آباد ہیں۔ یہ برادری اپنی منفرد تہذیب، مذہبی رسومات، روایتی لباس، تہواروں اور قدیم طرزِ زندگی کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا حکومت کا کیلاش برادری کی فوتگی پر مالی مدد کا فیصلہ، مگر کیوں؟

یونیسکو کے مطابق کسی بھی مقام کو عالمی ورثہ کی مستقل فہرست میں شامل کرنے سے پہلے اسے عبوری فہرست میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد متعلقہ ملک مکمل دستاویزات اور قانونی تقاضے پورے کرکے حتمی منظوری کے لیے درخواست دیتا ہے۔

خیبرپختونخوا محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالصمد نے اس پیشرفت کو کالاش ثقافت کے تحفظ کی جانب اہم سنگِ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ کسی مکمل برادری اور اس کی ثقافتی روایات کو یونیسکو کی عبوری فہرست میں جگہ ملی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے کالاش ثقافتی منظرنامے کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے کوششیں کر رہا تھا۔ اس شمولیت سے کالاش ثقافت کے مادی اور غیر مادی ورثے، دونوں کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیے: وادی کیلاش سے بین الاقوامی میدان تک: سائرہ جبین نے تاریخ رقم کر دی

یونیسکو نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ کالاش وادیوں کا ثقافتی منظرنامہ ایک نادر اور محفوظ زندہ مقامی تہذیبی نظام کی مثال ہے، جو صدیوں سے اپنے اصل جغرافیائی ماحول میں برقرار ہے۔

ادارے کے مطابق یہاں 140 سے زائد مذہبی مقامات، رسوماتی ڈھانچے، آبائی قبرستان، لکڑی کی منفرد نقش و نگاری، روایتی بستیاں، لوک کہانیاں، موسیقی، رقص، تہوار اور بزرگوں کی کونسل پر مبنی روایتی نظام آج بھی موجود ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ شمولیت نہ صرف کالاش ثقافت کے عالمی تعارف کا سبب بنے گی بلکہ سیاحت، مقامی ترقی اور ثقافتی تحفظ کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp