بھارتی ریاست میگھالیہ میں 2025 میں ہنی مون کے دوران اپنے شوہر راجہ رگھو ونشی کے قتل کے الزام میں گرفتار سونم رگھو ونشی کو منگل کے روز عدالت نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے.
3 بار ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اس بار ملزمہ کی رہائی کسی قانونی پیچیدگی کے بجائے پولیس کی ایک فاش ‘دفتری غلطی’ کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے، جس نے استغاثہ کے کیس کو کمزور کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی پولیس پر عدم اعتماد، اداکارہ نے گن لائسنس کے لیے اپلائی کردیا
عدالتی کارروائی کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ سونم رگھو ونشی کے خلاف درج ایف آئی آر اگرچہ قتل کی دفعہ 103 کے تحت تھی، تاہم پولیس نے گرفتاری کی وجوہات سے متعلق دستاویزات (گراؤنڈز آف اریسٹ) میں بھارتیہ نیا سنہتا کی دفعہ 403(1) درج کر دی تھی، جو کہ قانون کی کتاب میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف اریسٹ میمو بلکہ معائنہ رپورٹ، حقوق کی فراہمی کے میمو اور کیس ڈائری تک میں ایک غیر موجود دفعہ کا حوالہ دیا گیا۔
جج نے پولیس کے اس عذر کو مسترد کر دیا کہ یہ محض ایک کلرکل غلطی تھی، کیونکہ ایسی غلطی تمام سرکاری دستاویزات میں بیک وقت نہیں ہوسکتی۔
یہ بھی پڑھیں: کپل شرما کو قتل کی دھمکی: بھارتی پولیس نے پاکستان کا نام لے لیا
ایڈیشنل ڈی سی (جوڈیشل) دشالین آر کھربتینگ نے فیصلے میں واضح کیا کہ گرفتاری کی وجوہات ملزم کو بتانے سے پہلے ریکارڈ پر موجود ہونی چاہئیں، جو اس کیس میں نظر نہیں آئیں۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ غازی پور میں پہلی پیشی کے وقت ملزمہ کو وکیل کی سہولت میسر نہیں تھی، جو کہ قانونی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ان تمام تکنیکی خامیوں کو بنیاد بناتے ہوئے عدالت نے 50 ہزار روپے کے مچلکے اور دو ضمانتوں کے عوض ملزمہ کی رہائی کا حکم جاری کیا۔
تاہم سونم رگھو ونشی پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ گواہوں کو متاثر نہیں کریں گی، ہر سماعت پر عدالت میں پیش ہوں گی اور اجازت کے بغیر شہر سے باہر نہیں جائیں گی۔














