پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز کاروبار کے دوران شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دونوں سمتوں میں فعال رہنے کے بعد تقریباً 2,600 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
مارکیٹ کا آغاز نسبتاً مضبوط رہا اور انڈیکس نے مختصر وقت کے لیے دن کی بلند ترین سطح 169,686 پوائنٹس کو چھوا، تاہم جلد ہی فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں صبح کے اوقات میں مارکیٹ بتدریج نیچے کی جانب جاتی رہی۔
دوپہر کے قریب معمولی استحکام دیکھا گیا، لیکن یہ مارکیٹ کے رجحان کو بدلنے میں ناکام رہا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
کاروبار کے آخری اوقات میں فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا اور بیچنے والوں کا غلبہ برقرار رہا، جس سے انڈیکس دن کی کم ترین سطح 165,391 پوائنٹس کے قریب پہنچ گیا۔
اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 165,823.87 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 2,588.36 پوائنٹس یعنی 1.54 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کے روز کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی زیادہ تر شرائط پوری کر لی ہیں اور امید ظاہر کی کہ 8 مئی کو آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دے دے گا۔
Market Close Update: Negative Today! 👇
🇵🇰 KSE 100 ended negative by -2,588.4 points (-1.54%) and closed at 165,823.9 with trade volume of 449 million shares and value at Rs. 27.5 billion. Today's index low was 165,391 and high was 169,686. pic.twitter.com/ACMtPdp3IK— Investify Pakistan (@investifypk) April 29, 2026
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس منظوری سے اہم بیرونی مالی وسائل دستیاب ہوں گے اور پاکستان کے بیلنس آف پیمنٹس کو استحکام ملے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مئی کے وسط میں آئی ایم ایف کا ایک مشن آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بات چیت کے لیے متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: غیر یقینی عالمی صورتحال اور مہنگی مانیٹری پالیسی، اسٹاک مارکیٹ منفی زون میں
گزشتہ روز یعنی منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج مسلسل دوسرے سیشن میں دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ سرمایہ کار اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں غیر متوقع 100 بیسس پوائنٹس اضافے پر ردعمل دے رہے تھے۔
دن بھر اتار چڑھاؤ جاری رہا اور بالآخر بڑے شعبوں میں فروخت کے باعث مارکیٹ مندی پر بند ہوئی، کے ایس ای 100 انڈیکس 168,412.23 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 1,085.12 پوائنٹس یعنی 0.64 فیصد کم تھا۔

عالمی سطح پر بدھ کے روز ایشیائی مارکیٹس کا آغاز غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ہوا، جہاں ایران تنازع اور مصنوعی ذہانت کے شعبے کی صورتحال سے متعلق خدشات نمایاں رہے۔
ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں 0.2 فیصد کمی آئی، جو پیر کو ریکارڈ سطح کے بعد دوسرے روز بھی نیچے آیا، خاص طور پر تائیوان کی چِپ ساز کمپنیوں میں کمی کے باعث۔ جاپانی مارکیٹس تعطیل کے باعث بند رہیں۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس میں 2400 سے زائد پوائنٹس کی کمی
ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 0.4 فیصد بڑھ کر 111.71 ڈالر فی بیرل ہو گئی، کیونکہ ایران تنازع کے خاتمے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے پیش کردہ حالیہ تجویز سے ناخوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جوہری معاملات کو ابتدا ہی سے حل کیا جائے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ٹرمپ نے اپنے معاونین کو ایران کے خلاف طویل ناکہ بندی کی تیاری کی ہدایت دی ہے۔
منگل کے روز وال اسٹریٹ میں بھی مندی دیکھنے میں آئی، جہاں ایس اینڈ پی 500 میں 0.5 فیصد اور نیسڈیک کمپوزٹ میں 0.9 فیصد کمی ہوئی، کیونکہ سرمایہ کار ایران سے متعلق تعطل کا جائزہ لے رہے تھے۔














