سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی متعدد چوکیوں اور گاڑیوں کو تباہ کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں جاری آپریشن غضب للحق کا حصہ ہیں، جو پاک افغان سرحد پر افغان طالبان فورسز اور دہشت گردوں کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج نے چمن کے علاقے میں انتہائی مہارت اور درستگی کے ساتھ افغان طالبان کی کئی پوسٹیں اور گاڑیاں نشانہ بنا کر تباہ کیں۔
یہ بھی پڑھیں: چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ، پاکستان کا بھرپور اور مؤثر جواب
ذرائع کے مطابق پاک فوج کی مؤثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام مقررہ اہداف حاصل نہیں ہو جاتے، وطن کے دفاع کے لیے سیکیورٹی فورسز کا غیر متزلزل عزم ملک کی علاقائی سالمیت کو یقینی بنا رہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز یعنی منگل کو بھی چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی متعدد چوکیوں کو تباہ کیا گیا تھا۔
آپریشن غضب للحق
پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی بلا اشتعال جارحیت کا بھرپور جواب۔ پاک فوج نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی متعدد چوکیوں اورگاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ کردیا،سیکیورٹی ذرائع@iamabidmalik @AmirSaeedAbbasi @alihamzaisb pic.twitter.com/unh1viCugK— Media Talk (@mediatalk922) April 29, 2026
گزشتہ اتوار کو جنوبی وزیرستان میں شہریوں پر بلا اشتعال فائرنگ میں ملوث افغان طالبان کی گن پوزیشنز کو بھی تباہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 افراد زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد جوابی کارروائی کی گئی۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی میں حالیہ اضافے کے باعث، جہاں حملوں کا ہدف اکثر سیکیورٹی اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوتے ہیں، ریاست نے انسداد دہشت گردی آپریشنز میں تیزی کر دی ہے۔
مزید پڑھیں: افغانستان سے تاجکستان پر ڈرون حملہ اور فائرنگ، 3 چینی باشندے ہلاک
اسلام آباد متعدد بار افغان طالبان سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں، خصوصاً کالعدم ٹی ٹی پی سے وابستہ عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔
تاہم حکام کے مطابق ان مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوا، پاکستان اس وقت افغان طالبان اور اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گردوں کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری رکھے ہوئے ہے۔
مذکورہ آپریشن 26 فروری کی رات افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال سرحد پار حملوں کے بعد شروع کیا گیا تھا۔
18 مارچ کو برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر عارضی وقفے کے بعد پاکستان نے 26 مارچ کو آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کے مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔











