وائٹ ہاؤس کو کیوبا پر حملے کا ‘گرین سگنل’، ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف لائی گئی قرارداد مسترد کردی

بدھ 29 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ایوانِ بالا یعنی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی ڈیموکریٹک کوششوں پر پانی پھیرتے ہوئے اس قرارداد کو کثرتِ رائے سے مسترد کردیا ہے جس کے تحت صدر پر کیوبا کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی مہم جوئی سے قبل کانگریس سے منظوری لینا لازم قرار پاتی۔

گزشتہ روز ہونے والی اس انتہائی اہم اور اعصاب شکن رائے شماری کے دوران ریپبلکن ارکان نے اپنی صفیں درست رکھیں اور 47 کے مقابلے میں 51 ووٹوں سے اس رکاوٹ کو دور کردیا، جس کے بعد اب صدر ٹرمپ کو کیوبا کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے مکمل سیاسی و قانونی آزادی حاصل ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کردی، اگلا نمبر کیوبا کا ہوگا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو

ایوان میں بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ٹم کین نے خبردار کیا کہ امریکا کی جانب سے کیوبا کی سمندری ناکہ بندی اور ایندھن کی ترسیل روکنے کے اقدامات پہلے ہی عملاً ایک جنگ کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی دوسرا ملک امریکا کے خلاف ایسے اقدامات کرتا تو اسے براہِ راست حملہ تصور کیا جاتا، تاہم ریپبلکن سینیٹر رک اسکاٹ نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ جب تک باقاعدہ فوج میدان میں نہیں اتاری جاتی، تب تک ایسی کسی قرارداد کی کوئی آئینی حیثیت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تیل کی فروخت پر پابندیوں کے خاتمے کے لیے کیوبا اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز

عالمی مبصرین اس پیش رفت کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ پہلے ہی علی الاعلان کہہ چکے ہیں کہ ایران اور وینزویلا کے بعد اب ان کی اگلی منزل کیوبا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ جزیرہ نما ملک کی حکومت اندرونی طور پر کھوکھلی ہو چکی ہے اور اسے گرانے کے لیے امریکی مداخلت ناگزیر ہے۔

یاد رہے کہ 28 فروری سے ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ اور وینزویلا میں صدر نکولس مدورو کی گرفتاری جیسے واقعات نے پہلے ہی دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، اور اب سینیٹ کے اس فیصلے نے کیوبا پر منڈلاتے جنگ کے بادلوں کو مزید گہرا کردیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور کی سونیا سے عائشہ بننے والی خاتون کیس کا فیصلہ، وفاقی آئینی عدالت نے والدین کی حوالگی کی درخواست خارج کردی

پیٹرولیم بحران: سبسڈی ادائیگی کیس پر بڑا عدالتی حکمنامہ معطل

اسلام آباد: عیدالاضحیٰ کے موقع پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری

بنگلہ دیشی: 15 اعلیٰ افسران کی تقرریاں متنازع، سول انتظامیہ میں بے یقینی

ایران معاملے پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلافات شدت اختیار کرگئے

ویڈیو

پشاور کی مویشی منڈی: جانور اور قیمتیں زیادہ، خریدار پریشان

مسئلہ کشمیر مہاجرین کی وجہ سے زندہ، پیپلز پارٹی اور ایکشن کمیٹی الیکشن ملتوی کرانے کے لیے ایک پیج پر ہیں، احمد رضا قادری

28ویں آئینی ترمیم کب پیش ہوگی؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتیں کھل کر بات کرنے سے گریزاں

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟