روم کی نیشنل سینٹرل لائبریری میں 7ویں صدی سے تعلق رکھنے والا ایک نایاب ادبی مخطوطہ دریافت ہوا ہے، جس نے ادبی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔
ٹرینٹی کالج ڈبلن کے محققین نے ایک ایسی نظم دریافت کی ہے جو قرون وسطیٰ کی ابتدائی انگریز ریاست نارتھمبریا کے ایک چرواہے نے تخلیق کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: 55 کروڑ سال پرانا نایاب فوسل دریافت، ابتدائی حیاتیاتی ارتقا کا بڑا راز بے نقاب
صدیوں تک پوشیدہ رہنے والے اس مخطوطہ پر ’کیڈمونز ہائم‘ کے نام سے انگریزی زبان کی قدیم ترین محفوظ نظم درج ہے۔
اس تاریخی دستاویز کو دریافت کرنے والی محققہ ایلیزابیتا میگنانتی کے مطابق اس نظم کی دریافت ایک انوکھا تجربہ تھا۔
Unbelievably, a new version of Cædmon’s hymn has just been found in Rome, dating to the beginning of the 9th century (less than 100 yrs after the Eccl. History was first written).
It’s probably the third-oldest version we have, and the oldest which includes a different reading… pic.twitter.com/jtDFyKVS9Z
— Grǣġhama (@grahamscheper) April 29, 2026
’یہ یقین کرنے کے لیے کہ میں خواب نہیں دیکھ رہی، میں نے دوبارہ کیٹلاگز چیک کیے، اور اس کا کہیں ذکر نہیں تھا، یہ ایک بہت بڑا اور خوشگوار حیران کن لمحہ تھا۔‘
اس تاریخی نظم کا ذکر سب سے پہلے ویرینیبل بیڈ نے کیا تھا، جنہیں انگریزی تاریخ کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: چین میں قدیم فوسلز کی دریافت، پیچیدہ زندگی کی تاریخ مزید پیچھے چلی گئی
ان کے مطابق، وٹبی کا ایک ناخواندہ مویشی بان ایک الہامی خواب کے بعد خدا کی تخلیق کی تعریف میں یہ نظم لکھنے پر قادر ہوا۔
حالیہ دریافت کے بعد یہ مخطوطہ مذکورہ نظم کی تیسری قدیم ترین معلوم نقل قرار پایا ہے۔
اس سے قبل اس نظم کی دیگر نقول کیمبرج اور سینٹ پیٹرزبرگ میں موجود ہیں، تاہم وہ زیادہ تر لاطینی زبان میں ہیں۔












