روم میں ساتویں صدی کی قدیم ترین انگریزی نظم کا نایاب مخطوطہ دریافت

بدھ 29 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روم کی نیشنل سینٹرل لائبریری میں 7ویں صدی سے تعلق رکھنے والا ایک نایاب ادبی مخطوطہ دریافت ہوا ہے، جس نے ادبی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔

ٹرینٹی کالج ڈبلن کے محققین نے ایک ایسی نظم دریافت کی ہے جو قرون وسطیٰ کی ابتدائی انگریز ریاست نارتھمبریا کے ایک چرواہے نے تخلیق کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: 55 کروڑ سال پرانا نایاب فوسل دریافت، ابتدائی حیاتیاتی ارتقا کا بڑا راز بے نقاب

صدیوں تک پوشیدہ رہنے والے اس مخطوطہ پر ’کیڈمونز ہائم‘ کے نام سے انگریزی زبان کی قدیم ترین محفوظ نظم درج ہے۔

اس تاریخی دستاویز کو دریافت کرنے والی محققہ ایلیزابیتا میگنانتی کے مطابق اس نظم کی دریافت ایک انوکھا تجربہ تھا۔

’یہ یقین کرنے کے لیے کہ میں خواب نہیں دیکھ رہی، میں نے دوبارہ کیٹلاگز چیک کیے، اور اس کا کہیں ذکر نہیں تھا، یہ ایک بہت بڑا اور خوشگوار حیران کن لمحہ تھا۔‘

اس تاریخی نظم کا ذکر سب سے پہلے ویرینیبل بیڈ نے کیا تھا، جنہیں انگریزی تاریخ کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: چین میں قدیم فوسلز کی دریافت، پیچیدہ زندگی کی تاریخ مزید پیچھے چلی گئی

ان کے مطابق، وٹبی کا ایک ناخواندہ مویشی بان ایک الہامی خواب کے بعد خدا کی تخلیق کی تعریف میں یہ نظم لکھنے پر قادر ہوا۔

حالیہ دریافت کے بعد یہ مخطوطہ مذکورہ نظم کی تیسری قدیم ترین معلوم نقل قرار پایا ہے۔

اس سے قبل اس نظم کی دیگر نقول کیمبرج اور سینٹ پیٹرزبرگ میں موجود ہیں، تاہم وہ زیادہ تر لاطینی زبان میں ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp