ایران امریکا معاہدہ: تعمیرِ نو و ترقیاتی فنڈز سمیت تہران کو سرمایہ کاری کی یقین دہانیاں

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے فریم ورک معاہدے میں 300 ارب ڈالر کے ایک بڑے نجی سرمایہ کاری فنڈ کا خاکہ شامل ہے، جبکہ اس فنڈ کے لیے 150 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی ابتدائی یقین دہانیاں بھی حاصل ہو چکی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ’ریکنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ فنڈ‘ نامی یہ مجوزہ فنڈ ایران میں توانائی، لاجسٹکس، مینوفیکچرنگ، ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس میں کسی بھی حکومت کی جانب سے براہِ راست مالی معاونت یا گرانٹ شامل نہیں ہوگی بلکہ سرمایہ کاری نجی کمپنیوں کے ذریعے آئے گی۔

مزید پڑھیں: سید عاصم منیر نے بغیر لڑے جنگ جیتی، پاکستان امریکا اور ایران کا معاہدہ نہ کرواتا تو مسلم امہ کے اندر لڑائی ہوتی، سیکیورٹی ذرائع

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا، خلیجی ممالک، ایشیا، جنوبی امریکا اور افریقا کی متعدد کمپنیوں نے فنڈ میں سرمایہ کاری کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ جنوبی کوریا، جاپان، سنگاپور، ملائیشیا اور امریکا کی بعض کمپنیوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں، تاہم مکمل فہرست جاری نہیں کی گئی۔

ایک ایرانی ذریعے کے مطابق تہران نے ابتدا میں جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے امریکا سے 400 ارب ڈالر معاوضے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم واشنگٹن نے اس امکان کو مسترد کر دیا، جس کے بعد تعمیرِ نو اور ترقیاتی فنڈ کا تصور سامنے آیا۔

ذرائع کے مطابق خلیجی اور علاقائی ممالک قرضوں کی ضمانت، کریڈٹ لائنز کے اجرا اور براہِ راست مالی معاونت کے ذریعے ایران میں جنگ سے متاثرہ تنصیبات کی بحالی میں کردار ادا کریں گے۔ ان منصوبوں میں موبارکہ اسٹیل کمپلیکس، آئل ریفائنریز، ہوائی اڈے اور دیگر بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔

واضح رہے کہ یہ فنڈ امریکی پابندیوں کے خاتمے اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی سے متعلق مذاکراتی عمل سے الگ ہوگا۔ ذرائع کے مطابق فنڈ صرف اسی صورت قائم اور فعال ہوگا جب دونوں ممالک کے درمیان حتمی اور جامع معاہدہ طے پا جائے گا۔

مزید پڑھیں: چین کا امریکا اور ایران کے مابین معاہدے کا خیرمقدم، ثالثی کی پاکستانی کوششیں قابل ستائش قرار

امریکی نائب صدر نے بھی ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر ایران جوہری پروگرام کے خاتمے، افزودہ مواد کے ذخائر ختم کرنے اور سخت بین الاقوامی نگرانی قبول کرنے سمیت معاہدے کی شرائط پوری کرتا ہے تو اسے 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو فنڈ تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ یادداشتِ مفاہمت پر جمعہ کو دستخط متوقع ہیں، جس کے بعد آئندہ 60 روز کے دوران جوہری، پابندیوں اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی مذاکرات کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp