یورپی یونین میں اسرائیلی سائبر خطرات پر خاموشی کیوں؟ اہم انکشافات سامنے آ گئے

جمعرات 30 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپی یونین کو درپیش سائبر سیکیورٹی چیلنجز پر ایک نئی بحث اس وقت شروع ہوئی ہے جب اسرائیلی انٹیلی جنس کمپنیوں کی جانب سے مبینہ سیاسی مداخلت اور سائبر سرگرمیوں کے حوالے سے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جبکہ برسلز کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ہیکرز کا اسرائیلی کمپنی پر سائبر اٹیک، مالی معاملات میں نقائص کا انکشاف

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق سابق موساد اور اسرائیلی فوج سے وابستہ اہلکاروں پر مشتمل نجی انٹیلی جنس کمپنی ’بلیک کیوب‘ پر یورپی سیاست میں مداخلت کے 2 بڑے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان واقعات میں قبرص اور سلووینیا میں سیاسی شخصیات سے خفیہ ملاقاتوں اور ریکارڈنگز کا انکشاف ہوا، جنہیں بعد ازاں جاری کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق قبرص میں صدر نکوس کرسٹوڈولائیڈس کے قریبی افراد کے ساتھ خفیہ طور پر سرمایہ کار بن کر رابطہ کیا گیا اور گفتگو ریکارڈ کی گئی، جس میں مبینہ طور پر رشوت اور سیاسی رسائی سے متعلق بات چیت سامنے آئی۔ یہ ویڈیوز قبرص کی یورپی یونین کی صدارت سنبھالنے کے بعد جاری کی گئیں، جس کے بعد کئی استعفے بھی ہوئے۔

اسی طرح سلووینیا میں بھی اسی نوعیت کی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں وزیراعظم رابرٹ گولوب کے ساتھیوں کو مبینہ طور پر ’پے ٹو پلے‘ یعنی مالی فوائد کے بدلے سیاسی رسائی پر بات کرتے دکھایا گیا۔ یہ ریکارڈنگز انتخابی عمل سے قبل منظرِ عام پر آئیں، جس کے بعد سیاسی ماحول میں شدید ہلچل پیدا ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی نوجوان سائبر اٹیکرز کے نشانے پر کیوں؟

رپورٹس کے مطابق ان دونوں واقعات کے باوجود یورپی کمیشن نے کوئی واضح ردعمل نہیں دیا، حتیٰ کہ سلووینیا کی حکومت کی جانب سے باضابطہ تحقیقات کے مطالبے کے باوجود بھی کوئی کارروائی سامنے نہیں آئی۔

مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی ساختہ اسپائی ویئر ’پیگاسس‘ اور دیگر نگرانی کے سافٹ ویئرز مختلف یورپی ممالک میں استعمال ہوتے رہے ہیں، جن کے ذریعے صحافیوں، سیاستدانوں اور سرکاری شخصیات کی نگرانی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ ’پریڈیٹر‘ اور دیگر میلویئرز کے استعمال کے دعوے بھی کئی ممالک سے منسلک کیے جاتے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یورپ میں سائبر نگرانی کی یہ صورتحال جمہوری اقدار، شفافیت اور انسانی حقوق کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ تاہم یورپی اداروں کی خاموشی نے اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کہ آیا سیاسی اور اسٹریٹجک تعلقات ان معاملات پر اثر انداز ہو رہے ہیں یا نہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یورپ میں سالانہ ہونے والی سائبر سیکیورٹی نمائشوں میں بھی ایسی کمپنیوں کی موجودگی دیکھی جاتی ہے جو نگرانی اور ڈیٹا ٹریکنگ ٹیکنالوجی فروخت کرتی ہیں، جس سے اس صنعت کے پھیلاؤ اور نگرانی کے نظام پر مزید سوالات اٹھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp