قومی پیغام امن کمیٹی کی کوششوں سے شدت پسندی میں کمی آئی ہے: علامہ راغب نعیمی چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل

جمعہ 1 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جامعہ نعیمیہ لاہور کے ناظم اعلیٰ اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ راغب نعیمی نے وی نیوز کے پروگرام اِسلام دینِ امن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا قومی پیغام امن کمیٹی کے اراکین مختلف اداروں کے اندر، مختلف مسالک کے رہنماؤں سے ملے ہیں۔ ماضی میں بھی اس کمیٹی نے کوئٹہ پشاور اور لاہور میں بہت اہم سرگرمیاں کی ہیں اور اس کے اپنے اجلاس کے اندر بھی ڈسکشنز ہوتی ہیں جو نہ صرف مختلف مسالک بلکہ عامۃ الناس کو بھی قریب لانے کے لیے اہم ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ ایک وقت تھا جب مختلف مسالک کے علماء کو ایک موضوع پر متفق کرنا کارِ دشوار تھا تو اب قیام امن کمیٹی کی صورت میں جو علماء دہشتگردی کے خلاف ایک نقطے پر متفق ہوئے ہیں اس کا کریڈٹ کس کو جاتا ہے؟ علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ پیغامِ امن کمیٹی پہلے بھی قائم کی گئی تھی لیکن وہ غیر فعال ہو گئی تھی اور اِس کمیٹی کو دوبارہ سے فعال کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسے فریم ورک کی ضرورت بھی محسوس کی گئی جس کے اندر رہ کر کام کیا جا سکے۔ پاکستان میں اِسلام کے علاوہ ہندو، مسیحی اور بدھ مت کے لوگوں کو بھی اس کمیٹی کا رُکن بنایا گیا تاکہ یہ صرف مسالک کو قریب لانے کا کام نہ کرے بلکہ مذاہب کو بھی قریب لائے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ پورے پاکستان میں اپنی نوعیت کی واحد کمیٹی ہے جو قیامِ امن کے لیے کام کر رہی ہے۔

جہاد اور فساد فی الارض میں کیا فرق ہے؟

اس سوال کے جواب میں علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ ہمارے ہمسایہ ملک (افغانستان) میں جہاد کا تصوّر اور فساد فی الارض کا تصوّر مختلف تھا جس کے رد کے لیے قومی قیامِ امن کمیٹی کو ایک بیانیہ بنانا تھا اور الحمدللہ ہم نے جہاد اور فساد فی الارض کے تصوّرات کو بہت واضح کیا ہے۔ گزشتہ بیانیہ یہ تھا کہ جمہوری طریقے سے منتخب ہو کر آنے والی حکومتیں غیر اِسلامی ہوتی ہیں، اس بنانیے کو بدلنے کی ضرورت تھی جو ہم نے کامیابی سے کیا۔

اس وقت مقبول عام بیانیہ یہی ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست اور پاکستانی فوج ایک اسلامی فوج ہے۔جہاد اور فساد فی الارض کے درمیان واضح فرق کو اجاگر کرنا ضروری تھا کیونکہ ماضی میں شدت پسند عناصر نے ان تصورات کو مسخ کر کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، جس سے معاشرے میں کنفیوژن اور انتشار پیدا ہوا۔ تاہم پیغامِ پاکستان اور قومی پیغامِ امن کمیٹی نے اس ابہام کو دور کرنے کے لیے ایک مستند اور متفقہ تشریح پیش کی، جس کے مطابق ریاست کے خلاف مسلح کارروائیاں اور بے گناہ افراد کا قتل صریحاً فساد فی الارض کے زمرے میں آتے ہیں، نہ کہ جہاد کے۔

یہ بیانیہ اس خطرناک تصور کی بھی نفی کرتا ہے جس کے تحت ریاستِ پاکستان کو غیر اسلامی قرار دے کر اس کے خلاف بغاوت کو جائز ٹھہرایا جاتا تھا۔ اس کے برعکس یہ واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، جس کے آئینی اور ادارہ جاتی ڈھانچے، جیسے اسلامی اُصولوں کے مطابق رہنمائی فراہم کرنے والے ادارے جیسا کہ وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل اس کے اندر موجود ہیں اور پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے۔

 قومی پیغامِ امن بیانیے کی ترویج کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟

اس سوال کے جواب میں علامہ راغب نعیمی نے کہا علماء کے کردار کو اس پورے عمل میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اگرچہ جامعات اور تحقیقی اداروں میں اس بیانیے پر کام ہوا، لیکن عام عوام تک اس کی مؤثر ترسیل کے لیے مساجد، مدارس اور منبر کا کردار فیصلہ کن ہے۔ اسی لیے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ علماء اور خطباء کے لیے باقاعدہ تربیتی پروگرامز متعارف کروائے جائیں، بالکل اسی طرح جیسے اساتذہ کے لیے بی ایڈ اور ایم ایڈ جیسے کورسز ہوتے ہیں۔ اس تربیت کا مقصد یہ ہوگا کہ علماء اپنے خطبات اور تدریس میں ملی وحدت، رواداری اور اعتدال کا پیغام مستقل بنیادوں پر شامل کریں۔

ایک اور اہم پہلو مدارس کے نصاب اور تدریسی رویوں میں بتدریج تبدیلی کا ہے۔ مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ دیگر مسالک کے بارے میں شدت پسندانہ رویوں میں کمی آئی ہے، اور ایک وسیع تر ’امت‘ کے تصور کو فروغ مل رہا ہے۔ عالمی و علاقائی حالات، خصوصاً مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے بھی اس شعور کو تقویت دی ہے کہ اسلام کو درپیش چیلنجز مسلکی نہیں بلکہ مجموعی ہیں، جس کا تقاضا مشترکہ ردِ عمل ہے۔

اختتاماً یہ کہا جا سکتا ہے کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی اور پیغامِ پاکستان جیسے اقدامات محض وقتی مہمات نہیں بلکہ ایک طویل المدتی فکری و سماجی تبدیلی کی بنیاد ہیں۔ اگر ان کوششوں کو تسلسل، ادارہ جاتی حمایت اور عوامی شمولیت حاصل رہی تو پاکستان نہ صرف داخلی طور پر زیادہ مستحکم ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک معتدل اور پرامن اسلامی معاشرے کی مثال بھی قائم کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp