وفاقی آئینی عدالت کے ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں نمایاں اضافہ کردیا گیا ہے۔ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے ملازمین کے الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت ججز کا فل کورٹ اجلاس، مقدمات کے جلد فیصلوں اور بیک لاگ کے خاتمے پر زور
عدالت کے ایڈیشنل رجسٹرار ایڈمن نے چیف جسٹس کی منظوری کے بعد باضابطہ آفس آرڈر جاری کر دیا ہے۔ اس کے تحت ملازمین کے جوڈیشل الاؤنس اور یوٹیلیٹی الاؤنس میں موجودہ بنیادی تنخواہ کے 50 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔

نئے الاؤنسز کا اطلاق وفاقی آئینی عدالت کے تمام ملازمین پر فوری طور پر ہوگا، اضافی الاؤنسز غیر معمولی چھٹی کے دوران قابلِ قبول نہیں ہوں گے،تمام اضافی اخراجات عدالت کے مالی سال 2025-26 کے مختص بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت: وفاق کی کے پی نارکوٹکس ایکٹ 2019 کو کالعدم قرار دینے کی استدعا، کیس کی سماعت 21 جنوری تک ملتوی
یہ فیصلہ وفاقی آئینی عدالت کے ملازمین کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو نئی عدالت کے قیام کے بعد ملازمین کے حوصلے بلند کرنے اور بہتر سہولیات فراہم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی قیادت میں وفاقی آئینی عدالت نہ صرف آئینی معاملات کی جلد اور موثر سماعت یقینی بنانے بلکہ اپنے سٹاف کی فلاح و بہبود پر بھی توجہ دے رہی ہے۔














