اسلام آباد کا معروف گرینڈ حیات (ون کونسٹیٹیوشن ایونیو) منصوبہ ایک بار پھر خبروں میں ہے، جس کی طویل قانونی تاریخ، معاہداتی خلاف ورزیاں، سی ڈی اے کی کارروائیاں اور عدالتی فیصلوں کے بعد بالآخر معاملہ اپریل 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے ذریعے حتمی طور پر بند ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گرینڈ حیات، بی این پی لیز کیس: ڈیفالٹ، واجبات اور قانونی کارروائی کا مکمل پس منظر
سرکاری ریکارڈ اور عدالتی فیصلوں کے مطابق یہ منصوبہ 2005 میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے طور پر منظور کیا گیا تھا، جس میں واضح شرط رکھی گئی تھی کہ اس کے سروس اپارٹمنٹس صرف ہوٹل آپریشن کے لیے استعمال ہوں گے اور انہیں علیحدہ رہائشی یونٹس کے طور پر فروخت نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم بعد ازاں ڈویلپر کی جانب سے ان شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپارٹمنٹس کو فروخت کے لیے مارکیٹ کیا گیا اور مبینہ طور پر تقریباً 240 یونٹس فروخت بھی کیے گئے، جس کی تصدیق عدالتی ریکارڈ میں پیش کی گئی دستاویزات سے ہوتی ہے۔
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اس خلاف ورزی پر متعدد بار نوٹسز جاری کیے اور 2012 تک فروخت پر قانونی پابندیاں عائد کر دیں۔ بعد ازاں منصوبے کو بغیر اجازت ایک ڈی فیکٹو رہائشی اسکیم میں تبدیل کرنے کا بھی الزام سامنے آیا۔

سی ڈی اے نے 2016 میں اس منصوبے کی لیز منسوخ کر دی، جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2017 اور 2018 میں برقرار رکھا۔ تاہم 2019 میں سپریم کورٹ نے مشروط طور پر منصوبے کی بحالی کی اجازت دی، جس کے تحت 17.5 ارب روپے کی ادائیگی لازمی قرار دی گئی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس شرط پر مکمل عملدرآمد نہ ہو سکا اور صرف تقریباً 2.9 ارب روپے ادا کیے گئے جبکہ 14 ارب روپے سے زائد کی رقم باقی رہی۔ اس عدم ادائیگی کے باعث مارچ 2023 میں سی ڈی اے نے ایک بار پھر لیز منسوخ کر دی۔
سی ڈی اے نے عوامی نوٹس جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ سابق ڈویلپر کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں اور اس منصوبے میں کسی بھی قسم کی خرید و فروخت خریدار کے اپنے رسک پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’ بھول جائیں کہ 17 ارب کو 10 ارب کردوں گا‘، سپریم کورٹ نے کانسٹیٹوشن ایونیو ون کی درخواست نمٹا دی
اعداد و شمار کے مطابق اس منصوبے کی 253 یونٹس میں سے صرف 69 یونٹس پر ہی قبضہ یا رہائش ہے جبکہ بڑی تعداد خالی پڑی ہے۔
بالآخر اپریل 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام باقی ماندہ درخواستیں خارج کرتے ہوئے اس کیس کو حتمی طور پر نمٹا دیا، جس کے بعد قانونی طور پر اس تنازع کا باب بند ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کیس میں بنیادی مسئلہ معاہدے کی خلاف ورزیاں، غیر قانونی تبدیلی، غیر مجاز فروخت اور مالی ادائیگیوں میں ناکامی رہا، جس نے اس منصوبے کو سالہا سال قانونی پیچیدگیوں میں الجھائے رکھا۔














