تحریکِ انصاف سے وابستہ اور پاکستان کو مطلوب ملزم اظہر مشوانی نے ایران نواز اور قادیانی رجحانات رکھنے والے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ معروف مذہبی رہنما حافظ طاہر محمود اشرفی پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔
اس وقت حافظ طاہر محمود اشرفی اپنی فیملی کے ساتھ برطانیہ کے نجی دورے پر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بدنیتی پر مبنی سوشل میڈیا مہم چلانے پر اظہر مشوانی و دیگر کو جے آئی ٹی نے طلب کرلیا
عینی شاہدین کے مطابق علامہ اشرفی بار بار حملہ آوروں کو متنبہ کرتے رہے کہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور بیٹی موجود ہیں، اور اس طرح کا رویہ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ ہماری معاشرتی روایات کے بھی سراسر خلاف ہے۔
مگر مشتعل حملہ آوروں نے نہ صرف ان کی بات کو نظر انداز کیا بلکہ نازیبا زبان کا استعمال کرتے ہوئے پہلے عسکری قومی شخصیات کے خلاف ہرزہ سرائی کی، اور پھر امتناعِ قادیانیت آرڈیننس (26 اپریل 1984) کے خلاف بھی نعرے بازی شروع کر دی۔

اس کے علاوہ کچھ عناصر نے عرب اسلامی ممالک کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے پاکستان کے خلاف بھی زہر اگلا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
اسی دوران چند عرب نوجوان موقع پر آگے بڑھے، انہوں نے نہ صرف صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی بلکہ مظاہرین کو پیچھے دھکیلتے ہوئے انہیں بنیادی اخلاقیات، تہذیب اور خاندانی اقدار کا احساس دلایا کہ کم از کم باپردہ خواتین ہی کا کچھ لحاظ رکھا جائے، ان عرب جوانوں کی بروقت مداخلت نے ایک بڑے سانحے کو جنم لینے سے روک دیا
یہ بھی پڑھیں:اظہر مشوانی نے بھائیوں کی گھر واپسی پر کیا کہا؟
سیاسی و نظریاتی اختلاف اپنی جگہ، مگر جب بات ذاتی حملوں، خاندانوں کی تضحیک اور قومی وقار کو پامال کرنے تک پہنچ جائے تو یہ اختلاف نہیں بلکہ کھلی بدتمیزی اور انتشار ہے۔














