بنگلہ دیش اور امریکا کے مابین تجارتی معاہدہ ہائیکورٹ ڈویژن میں چیلنج

پیر 4 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش اور امریکا کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کو عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کے ہائیکورٹ ڈویژن میں دائر درخواست میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے باہمی تجارتی معاہدے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق درخواست میں وزارت خارجہ، وزارت خزانہ اور وزارت تجارت کے سیکریٹریز کو فریق بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش اور امریکا کے درمیان باہمی ٹیرف معاہدے پر دستخط

یہ درخواست سپریم کورٹ کے وکیل معیدالاسلام پلک کی جانب سے دائر کی گئی جبکہ سبیر نندی داس نے فائلنگ کونسل کے طور پر معاونت کی۔

کیس کی سماعت متوقع طور پر جسٹس رازق الجلیل اور جسٹس دیباشیش رائے پر مشتمل بینچ کرے گا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ غیر معقول، ساختی طور پر غیر متوازن اور بنگلہ دیش کے قومی مفادات کے لیے نقصان دہ ہے۔

درخواست گزار نے عوامی مفاد کے تحت عدالت سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ معاہدے کی تیاری اور حتمی شکل دینے کے دوران حکام ملک کی معاشی خودمختاری اور عوامی فلاح کے تحفظ میں ناکام رہے۔

اس میں الزام لگایا گیا کہ معاہدہ بنگلہ دیش پر غیر متناسب ذمہ داریاں عائد کرتا ہے، ٹیرف ڈھانچہ غیر موزوں ہے اور اس سے ملک کی ریگولیٹری خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کا ایئربس کے بجائے بوئنگ سے 14 نئے طیارے خریدنے کا فیصلہ

مزید خدشات میں مقامی صنعتوں، زراعت اور ماحولیاتی تحفظ پر ممکنہ منفی اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا اس معاہدے کی آئینی حیثیت درست ہے یا نہیں، کیونکہ معاہدوں کی تیاری کے لیے ضروری قانونی طریقہ کار پر مکمل عمل نہیں کیا گیا۔

عدالت آئندہ دنوں میں فیصلہ کرے گی کہ آیا اس درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کیا جائے یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp