چین کے نوجوان کھلاڑی وو ییزے (Wu Yize) نے سنسنی خیز مقابلے کے آخری فریم میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ورلڈ اسنوکر چیمپیئن شپ جیت لی، جہاں انہوں نے انگلینڈ کے تجربہ کار کھلاڑی شان مرفی (Shaun Murphy) کو 18-17 سے شکست دی۔
مزید پڑھیں: ورلڈ اسنوکر چیمپیئن شپ میں بھارتی حریف کو زیر کرنے والے محمد آصف کا بیان سامنے آگیا

22 سالہ وو ییزے نے فیصلہ کن فریم میں 85 پوائنٹس کی شاندار بریک بنا کر کامیابی اپنے نام کی اور یوں وہ تاریخ کے دوسرے کم عمر ترین عالمی چیمپئن بن گئے۔ یہ فائنل 2002 کے بعد پہلا موقع تھا جب مقابلہ آخری یعنی 35ویں فریم تک گیا۔
میچ کے دوران دونوں کھلاڑیوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا اور اسکور کئی بار برابر ہوا، جس میں 14-14، 15-15 اور 16-16 کی برابری شامل ہے۔ شان مرفی نے ایک موقع پر 131 کی شاندار کلیئرنس کے ذریعے مقابلہ برابر کیا، تاہم وو ییزے نے دباؤ میں بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے فیصلہ کن لمحات میں برتری حاصل کرلی۔
History made! 22-year-old Wu Yize defeated Shaun Murphy 18–17 in a thrilling final to become snooker’s first post-2000s world champion. Back-to-back Chinese winners in Sheffield for the first time ever. pic.twitter.com/PQ8uMjb7MP
— Shanghai Daily (@shanghaidaily) May 5, 2026
وو ییزے کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے کیریئر کا سب سے بڑا اعزاز ہے بلکہ چینی اسنوکر کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔ اس جیت کے ساتھ وہ مسلسل چوتھے ایسے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے پہلی بار عالمی ٹائٹل اپنے نام کیا، اور تمام فاتحین کی عمر 32 سال سے کم رہی، جو اس کھیل میں نئی نسل کے ابھار کی نشاندہی کرتی ہے۔
میچ کے بعد شان مرفی نے کھیل کے جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حریف کو مبارکباد دی اور کہا کہ وو ییزے ایک شاندار عالمی چیمپیئن ہیں اور انہوں نے جیت کے مکمل حقدار ہونے کا ثبوت دیا۔

مزید پڑھیں: ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ: ایرانی کھلاڑی حسین وفائی نے کوالیفائر سے تاریخ رقم کر دی
یہ تاریخی کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ عالمی اسنوکر میں ایک نئی نسل تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے اور مستقبل میں مزید دلچسپ مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔














