وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنا جنگ تصور کیا جائےگا، اور ایسی صورت میں بگلیہار ڈیم کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ: 100 دن گزر گئے، بھارت اقوام متحدہ کے سوالات کا جواب نہ دے سکا
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس وقت ہمیں پانی کے ذخائر بنانے کی ضرورت ہے، اور اس معاملے کو سندھ اور پنجاب نے طے کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پانی کے ذخائر بنانے سے متعلق حکمت عملی واپڈا اور ہمارے ذہن میں ہے، اور اس حوالے سے ہم نے صدر مملکت سے بھی ملاقات کی۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں 3 سے 4 پانی کے ذخائر بنانے چاہییں، تاکہ بھارت پانی چھوڑے تو ہم سٹور کرلیں اور روکے تو استعمال کرلیں، چناب کے مقام پر پانی کے ذخائر بنانے کی تجویز ہے۔
قبل ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی واضح کیاکہ پاکستان کا پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائےگا۔
سفیروں اور ڈپلومیٹک کور سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی اقدامات سے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان نے معرکہ حق میں وطن عزیز کے ایک ایک انچ کا دفاع کیا، مئی کی جنگ میں بھارت کے لڑاکا طیارے گرائے گئے۔
انہوں نے کہاکہ بھارت نے پہلگام حملے کا الزام بغیر ثبوت پاکستان پر لگایا، اور پھر جارحیت کی جس کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے منہ توڑ جواب دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس 22 اپریل کو پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے ایک حملے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کو جنگ تصور کیا جائےگا، اسحاق ڈار کا بھارت کو دوٹوک پیغام
پاکستان کا اس حوالے سے دوٹوک مؤقف ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا، لیکن اگر پاکستان کا پانی روکا گیا تو ہم اسے جنگ تصور کریں گے۔














