امریکی فوج کا آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والی 6 ایرانی کشتیاں تباہ کرنے کا دعویٰ

پیر 4 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے خلیج عرب میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والی ایران کی 6 چھوٹی کشتیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی تحویل میں لیا گیا ایرانی جہاز عملے کے 22 ارکان سمیت پاکستان کے حوالے

سینٹکام کے مطابق یہ آپریشن فوجی ہیلی کاپٹروں اور گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائرز کی مدد سے اس وقت کیا گیا، جب ایرانی فورسز نے امریکی تحفظ میں موجود جہازوں کی جانب کروز میزائل، ڈرونز اور کشتیاں روانہ کیں، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام خطرات کو کامیابی سے ناکام بنا دیا گیا ہے۔

 دوسری جانب ایران نے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹا قرار دیا ہے، البتہ ایرانی سرکاری میڈیا نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کی بحریہ نے امریکی جنگی جہازوں کی علاقے میں آمد پر ان کے قریب انتباہی فائرنگ کی اور کروز میزائل و ڈرونز داغے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے فائرنگ کی گئی ہے تاہم ایک جنوبی کوریائی جہاز کو پہنچنے والے معمولی نقصان کے علاوہ کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، جبکہ اس تازہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کیخلاف بحری ناکہ بندی ’دوستانہ‘ ہے، ایرانی تجاویز کا جلد جائزہ لوں گا، صدر ٹرمپ

 امریکی ایڈمرل بریڈ کوپر نے صحافیوں کو بتایا کہ اپاچی اور سی ہاک ہیلی کاپٹروں نے تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے والی 6 کشتیوں کو نشانہ بنایا اور ان تمام میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کردیا جو امریکی یا تجارتی جہازوں کی طرف چھوڑے گئے تھے۔

امریکی بحریہ کے مطابق یہ کارروائی ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا حصہ ہے جس کا مقصد خلیج میں تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ راستہ بحال کرنا ہے، اور اس مشن کے تحت 2 امریکی مال بردار جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے۔

 تہران نے 28 فروری سے شروع ہونے والی امریکہ اسرائیل فوجی مہم کے جواب میں اس راستے کو بند کر رکھا ہے جبکہ واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

اگرچہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتوں کی ابتدائی جنگ بندی میں صدر ٹرمپ نے غیر معینہ مدت تک توسیع کردی تھی، لیکن حالیہ جھڑپوں نے اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور فریقین کے درمیان تاحال کوئی مستقل حل سامنے نہیں آسکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کشیدگی: قطر کی ترسیل متاثر، پاکستان کا اسپاٹ ایل این جی خریدنے کا فیصلہ

امریکی ایئر لائنز کا بڑا فیصلہ، اب مسافروں کو مفت کھانا اور مشروبات نہیں ملیں گے

امریکی ڈیموکریٹس کا اسرائیل کے جوہری ابہام سے پردہ اٹھانے کا مطالبہ

معرکہ حق: بھارت اب پاکستان کی طرف دشمنی کی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گا، اسلام آباد کے عوام کی رائے

فلسطینی بچوں کا ملالہ سے ویڈیو کال مکالمہ، تعلیمی رکاوٹیں اور اسرائیلی مظالم کی دردناک کہانی

ویڈیو

معرکہ حق: بھارت اب پاکستان کی طرف دشمنی کی نظر سے دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گا، اسلام آباد کے عوام کی رائے

خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ، عوام کیا کہتے ہیں، کیا ان کے مسائل حل ہوں گے؟

امریکی صدر کی اسٹریٹجی ناکام، ایران سے مذاکرات کی جلدی

کالم / تجزیہ

اگر مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر ہوتے؟

انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟

ٹریل 5: فطرت، تنہائی اور خودکلامی