چینی حکومت نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں کی مسلسل مخالفت کرتی ہے جو بین الاقوامی قانون کی بنیاد سے محروم ہوں اور جنہیں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل نہ ہو۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے بدھ کے روز میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ چین کے متعلقہ اقدامات قانون کے مطابق نافذ کیے جاتے ہیں اور یہ غیر ملکی قوانین اور اقدامات کے ناجائز سرحد پار اطلاق کو روکنے کے لیے عملی اقدامات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ میں امریکا کی شمولیت پر چین کا سخت بیان، نتائج کیا ہوں گے؟
انہوں نے یہ بیان امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے اُس دعوے کے ردِعمل میں دیا جس میں کہا گیا تھا کہ چین اپنی کمپنیوں کو ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کو نظرانداز کرنے کی ہدایت دے رہا ہے اور اگر ایسا ہوا تو چین کو ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ترجمان چینی وزارت خارجہ نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر چین کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور چینی بحری جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے چین اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: عالمی طاقتیں بیجنگ میں اکٹھی، چین دنیا میں ابھرتاسپرپاور، امریکا پریشان
انہوں نے یہ بات اُس سوال کے جواب میں کہی جس میں بعض امریکی حکام کے اس بیان پر تبصرہ مانگا گیا تھا کہ چین کو آبنائے ہرمز میں امریکی قیادت میں ہونے والی فوجی کارروائی کی حمایت کرنی چاہیے۔
لن جیان نے کہا کہ چین امید کرتا ہے کہ تمام متعلقہ فریق دانشمندی کا مظاہرہ کریں گے، صورتِ حال کو مزید خراب کرنے سے گریز کریں گے اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں گے تاکہ آبنائے میں جلد از جلد امن اور استحکام بحال ہو سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں