بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے اضلاع رائسن اور ودیشا کے جنگلات میں ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک شخص نے اپنی بیوی کو قتل کرکے اپنے 2 سالہ بیٹے کو جنگل میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔
مزید پڑھیں:سپریم کورٹ: 3 افراد کے قتل کیس میں عمر قید کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ
پولیس کے مطابق ملزم راجندر اہروار نے اپنی بیوی جیوتی پر بدگمانی کے باعث اسے ایک ویران جنگلاتی علاقے میں لے جا کر پتھر سے سر کچل کر قتل کر دیا۔ یہ واقعہ حیدرگڑھ تھانے کی حدود میں پیش آیا۔
حکام کے مطابق ملزم 2 روز قبل بیوی اور بیٹے کو موبائل فون خریدنے کے بہانے گھر سے لے کر نکلا تھا، تاہم بیگم گنج جانے کے بجائے جنگل کا رخ کیا جہاں اس نے یہ سفاکانہ اقدام کیا۔
واقعے کے بعد ملزم اپنے کمسن بیٹے کو گھنے جنگل میں چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ جب خاندان کے افراد واپس نہ لوٹے تو اہلخانہ نے پولیس کو اطلاع دی، جس پر فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ روہت کشوانی کے مطابق ملزم کو گرفتار کرلیا گیا، جس نے دورانِ تفتیش جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بچے کی جگہ بھی بتا دی۔
اس اطلاع کے بعد پولیس نے رائسن اور ودیشا میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا، جس میں 12 تھانوں کی نفری نے حصہ لیا۔ ٹارچز، ڈرونز اور سرچ ڈاگز کی مدد سے رات بھر جنگل کی تلاشی لی گئی۔
قریباً 10 گھنٹے کی مسلسل کوششوں کے بعد صبح کے وقت بچے کو جھاڑیوں کے قریب زندہ حالت میں تلاش کرلیا گیا۔ بچہ خوفزدہ اور بھوک و پیاس سے نڈھال تھا، جسے فوری طور پر پانی فراہم کرکے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں:ہنی مون مرڈر کیس: بھارتی پولیس کی معمولی غلطی سے قتل کی ملزمہ رہا ہوگئی
پولیس نے ملزم کے خلاف قتل اور شواہد چھپانے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے یہ جرم اپنی بیوی کے کردار پر شک کی بنیاد پر کیا۔
یہ افسوسناک واقعہ رائسن اور ودیشا کے علاقوں میں شدید خوف و غم کی لہر دوڑا گیا ہے، جہاں ایک طرف بیوی کی بے جان لاش اور دوسری جانب جنگل میں چھوڑے گئے معصوم بچے کی کہانی نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔













