عالمی میڈیا میں انقلاب برپا کرنے والے، سی این این کے بانی ٹیڈ ٹرنر 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

جمعرات 7 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں 24 گھنٹے خبروں کے تصور کو متعارف کرانے والے معروف امریکی میڈیا ٹائیکون اور سی این این کے بانی ٹیڈ ٹرنر 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال پر عالمی میڈیا، سیاسی شخصیات اور صحافیوں نے انہیں جدید نشریاتی صحافت کا معمار قرار دیتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

دنیا کے معروف میڈیا ٹائیکون اور 24 گھنٹے خبروں کے کلچر کے بانی ٹیڈ ٹرنر 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے قائم کردہ عالمی نیوز نیٹ ورک سی این این نے بدھ کے روز ان کی وفات کی تصدیق کی۔

ٹیڈ ٹرنر نے 1980 میں ’کیبل نیوز نیٹ ورک‘ (سی این این) کا آغاز کیا، جو دنیا کا پہلا مستقل 24 گھنٹے خبریں نشر کرنے والا چینل تھا۔ ابتدا میں اس منصوبے کو شدید تنقید اور شکوک کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ بعض ناقدین اسے طنزیہ انداز میں ’چکن نوڈل نیٹ ورک‘ بھی کہتے تھے، تاہم وقت کے ساتھ سی این این عالمی میڈیا کا ایک طاقتور ستون بن گیا۔

یہ بھی پڑھیے پینٹاگون سربراہ کی سی این این پر تنقید کی، ٹرمپ کے حلیف کو ادارہ خریدنے کا مشورہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیڈ ٹرنر کو ’نشریاتی تاریخ کی عظیم شخصیات میں سے ایک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ اچھے مقصد کے لیے کھڑے ہونے کو تیار رہتے تھے۔

سی این این کے موجودہ چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو مارک تھامسن نے کہا کہ ٹیڈ ٹرنر وہ عظیم شخصیت تھے جن کے کندھوں پر کھڑے ہو کر ہم نے یہ ادارہ بنایا۔ وہ نڈر، جرات مند اور اپنی سوچ پر مکمل اعتماد رکھنے والے رہنما تھے۔

سی این این نے اپنی ابتدائی کامیابی 1981 میں امریکی صدر رونالڈ ریگن پر قاتلانہ حملے اور 1986 میں ’چیلنجر‘ خلائی شٹل حادثے کی مسلسل براہِ راست کوریج سے حاصل کی، تاہم 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران عراق سے براہِ راست نشریات نے اسے عالمی سطح پر نئی شناخت دی۔ سابق امریکی صدر جارج بش نے ایک بار کہا تھا کہ انہیں سی آئی اے سے زیادہ معلومات سی این این سے ملتی تھیں۔

سی این این کی بانی ٹیم کی رکن میری ایلس ولیمز نےبتایا کہ ٹیڈ ٹرنر ایک غیرمعمولی وژن رکھنے والے شخص تھے، جنہوں نے ایسا نیٹ ورک بنایا جو پوری دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا ذریعہ بنا۔

ٹیڈ ٹرنر کی کامیابی کے بعد دنیا بھر میں دیگر نیوز چینلز نے بھی 24 گھنٹے نشریات کا ماڈل اپنایا، جن میں 1996 میں ان کے حریف روپرٹ مرڈوک کا ’فاکس نیوز‘ بھی شامل ہے۔

ٹیڈ ٹرنر نے اپنے کیریئر کا آغاز خاندانی بل بورڈ کمپنی سنبھالنے سے کیا، جس کے بعد انہوں نے امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں ایک ریڈیو اسٹیشن خریدا۔ یہی ادارہ بعد میں ’ٹرنر براڈکاسٹنگ سسٹم‘ (ٹی بی ایس) کی بنیاد بنا اور چند ہی برسوں میں وہ امریکا کے بڑے میڈیا مالکان میں شمار ہونے لگے۔

وہ اپنی بے باک شخصیت کی وجہ سے بھی مشہور تھے اور انہیں ’ماؤتھ آف دی ساؤتھ‘ اور ’کیپٹن آؤٹ ریجس‘ جیسے القابات دیے گئے۔ مارک تھامسن کے مطابق وہ کئی برس تک سی این این ہیڈکوارٹر میں رہتے رہے اور اکثر غسل خانے کا لباس پہن کر نیوز روم میں آ جاتے تھے تاکہ دن بھر کی خبروں پر بحث کر سکیں۔

میڈیا کے علاوہ ٹیڈ ٹرنر کھیلوں کی دنیا میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے 1977 میں امریکا کا معروف ’امریکاز کپ‘ یاٹ ریس جیتی۔ وہ اٹلانٹا بریوز بیس بال ٹیم، اٹلانٹا ہاکس باسکٹ بال ٹیم اور اٹلانٹا تھریشرز آئس ہاکی ٹیم کے مالک بھی رہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ سی این این اور نیویارک ٹائمز پر کیوں برس پڑے؟

ٹیڈ ٹرنر ایک بڑے مخیر شخصیت بھی تھے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کو ایک ارب ڈالر عطیہ کیے، جبکہ ماحولیات اور صاف توانائی کے منصوبوں کے لیے بھی کروڑوں ڈالر خرچ کیے۔

انہوں نے اداکارہ جین فونڈا سے 1991 میں شادی کی، تاہم 2001 میں دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ 2018 میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ وہ ’لیوی باڈی ڈیمنشیا‘ نامی اعصابی بیماری میں مبتلا ہیں۔

سی این این کی معروف صحافی کرسچیانے امان پور نے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹیڈ ٹرنر نے میڈیا کی ایسی انقلابی دنیا تخلیق کی جو پوری انسانیت کے فائدے کے لیے تھی۔

سابق سی این این میزبان پیئرز مورگن نے کہا کہ ٹیڈ ٹرنر ایک غیرمعمولی شخصیت تھے، جنہوں نے سی این این قائم کیا، کھیلوں میں عالمی اعزازات جیتے، بڑے فلاحی منصوبے شروع کیے اور ہمیشہ جرات مندانہ فیصلے کیے۔

ٹیڈ ٹرنر کے ٹیلی وژن نیٹ ورک میں ٹی بی ایس، ٹی این ٹی، ٹرنر کلاسک موویز اور کارٹون نیٹ ورک جیسے بڑے ادارے بھی شامل تھے۔ بعد ازاں ان کی کمپنی ’ٹائم وارنر‘ کے ساتھ ضم ہو گئی، جسے ان کے میڈیا کیریئر کا اہم موڑ قرار دیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا ایران مذاکرات ممکن ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف

لائیوپاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا سوئٹزرلینڈ میں آغاز

قاہرہ میں ریجنل-4 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ’اسلام آباد مفاہمی یادداشت‘ زیر بحث

مشرقِ وسطیٰ بحران کے باعث پاکستانی آم کی برآمدات متاثر، 30 فیصد کمی کا خدشہ

ویڈیو

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟