ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں ملک کے اعلیٰ ترین رہنما سید مجتبیٰ خامنہای سے ملاقات کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای کے پیغام کے بعد نیتن یاہو نے کیا کہا؟ بیان جاری
سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رہنما کی عوامی سطح پر طویل عرصے سے عدم موجودگی پر مختلف قیاس آرائیاں جاری تھیں۔
صدر پزشکیان نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا کہ اس ملاقات کے دوران سب سے نمایاں بات رہنما کا انتہائی عاجزانہ، پرخلوص اور دوستانہ انداز تھا۔
ان کے مطابق گفتگو کا ماحول نہایت پُرسکون، بااعتماد اور براہِ راست مکالمے پر مبنی تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس ملاقات میں سادگی، باہمی احترام اور خلوص واضح طور پر نظر آیا جس نے پورے ماحول کو قربت اور اعتماد میں بدل دیا۔
مزید پڑھیے: ایرانی سیکیورٹی چیف علی لاریجانی اور کمانڈر غلام رضا سلیمانی اسرائیلی حملوں میں شہید
پزشکیان کے مطابق جب ملک کی اعلیٰ قیادت اس طرح اخلاقی اور عاجزانہ انداز میں حکومتی اہلکاروں اور عوامی نمائندوں سے گفتگو کرتی ہے تو یہ پورے انتظامی نظام کے لیے ایک عملی مثال بن سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرزِ عمل میں ذمہ داری، عوام سے قربت اور مسائل کے لیے حقیقی توجہ شامل ہے جو ان کے بقول مرحوم رہنما سید علی خامنہای (سید علی خامنہای) کی خصوصیات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: مظاہروں کی آڑ میں بیرونی مداخلت ناقابلِ قبول، ایرانی فوج اور آئینی کونسل کا دوٹوک مؤقف
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی سیاسی قیادت اور قیادت کے اندرونی معاملات پر بین الاقوامی سطح پر مختلف سوالات اور تجزیے جاری ہیں۔













